Friday, October 14, 2016

اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

بسم الله الرحمن الرحيم
اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

آيۃ  الکرسی
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ(البقرۃ ۲۵۵)
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، زندہ ہے (جس کو کبھی موت نہیں آسکتی) (ساری کائنات کو) سنبھالنے والاہے، نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین وآسمان کی تمام چیزیں ہیں، کون شخص ہے جو اُس کی اجازت کے بغیر اُس کے سامنے شفاعت کرسکے، وہ جانتا ہے ان (کائنات) کے تمام حاضر وغائب حالات کو ، وہ (کائنات) اُس کی منشا کے بغیرکسی چیز کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے، اُس کی کرسی کی وسعت نے زمین وآسمان کو گھیر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ کو ان (زمین وآسمان) کی حفاظت کچھ گراں نہیں گزرتی، وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔
یہ سورۂ البقرہ کی آیت نمبر ۲۵۵ ہے جو بڑی عظمت والی آیت ہے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور بعض اہم صفات کا ذکر ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی کرسی کا بھی ذکر آیا ہے جس کی وجہ سے اس آیت کو آیت الکرسی کہا جاتا ہے۔ آیت الکرسی کی فضیلت میں بہت سی حدیثیں کتب احادیث میں وارد ہیں لیکن اختصار کے مدنظر یہاں صرف چند اہم فضیلتیں ذکر کررہا ہوں جن کے صحیح ہونے پر جمہور علماء امت متفق ہیں۔
سب سے زیادہ عظمت والی آیت:
حضرت ابی بن کعبؓ سے رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کتاب اللہ میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت کون سی ہے؟ حضرت ابی بن کعبؓ نے جواب میں فرمایا: اللہ اور اس کے رسول ہی کو اس کا سب سے زیادہ علم ہے۔ آپ ﷺ نے دوبارہ یہی سوال کیا۔ بار بار سوال کرنے پر حضرت ابی بن کعبؓ نے فرمایا: آیت الکرسی۔ حضور اکرم ﷺ نے حضرت ابی بن کعبؓ کے سینے پر ہاتھ مارکر فرمایا: ابو المنذر! اللہ تعالیٰ تجھے تیرا علم مبارک کرے۔ (مسلم، باب فضل سورۃ الکهف وآيۃ الکرسی،ح۸۱۰) مسند احمد میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: اُس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اِس (آیت الکرسی) کی زبان ہوگی اور ہونٹ ہوں گے اور یہ بادشاہ حقیقی کی تقدیس بیان کرے گی اور عرش کے پایہ سے لگی ہوئی ہوگی۔ (مسند احمد ۵/۱۴۱۔۱۴۲)

حضرت ابو ذر غفاریؓ کے سوال پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ عظمت والی آیت‘ آیت الکرسی
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُالخ .ہے۔ (مسند احمد ۵/۱۷۸، نسائی ح ۵۵۰۹)
دخول جنت کا سبب:
حضرت ابو امامہ الباہلیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھ لے‘ اسے جنت میں جانے سے کوئی چیز نہیں روکے گی سوائے موت کے۔ (ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور امام نسائی نے عمل الیوم واللیلہ میں یہ حدیث ذکر کی ہے، اس حدیث کی سند شرط بخاری پر ہے)
شیاطین وجنات سے حفاظت:
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ میں رمضان میں وصول کی گئی زکاۃ کے مال پر پہرا دے رہا تھا، ایک آنے والا آیا اور سمیٹ سمیٹ کر اپنی چادر میں جمع کرنے لگا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے اس کو ایسا کرنے سے بار بار منع فرمایا۔ اس آنے والے نے کہا کہ مجھے یہ کرنے دو، میں تجھے ایسے کلمات سکھاؤں گا کہ اگر تو رات کو بستر میں جاکر ان کو پڑھ لے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تجھ پر حافظ مقرر ہوگا اور صبح تک شیطان تیرے قریب بھی نہ آسکے گا اور وہ آیت الکرسی ہے۔ جب حضرت ابوہریرہؓ نے حضور اکرم ﷺ کو یہ واقعہ سنایا تو آپ ﷺنے فرمایاکہ اس نے سچ کہا مگر وہ خود جھوٹا ہے اور وہ شیطان ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب الوکالة، باب اذا وکل رجلا فترک الوکيل شيئا،،، ح ۲۳۱۱، ۳۲۷۵، ۵۰۱۰)
حضرت ابی بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ میرے پاس کچھ کھجوریں تھیں جو روزانہ گھٹ رہی تھیں، ایک رات میں نے پہرا دیا۔ میں نے دیکھاکہ ایک جانور مثل جوان لڑکے کے آیا،میں نے اس کو سلام کیا، اس نے میرے سلام کا جواب دیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تو انسان ہے یا جن؟ اس نے کہا میں جن ہوں۔ میں نے کہا کہ ذرا اپنا ہاتھ دو۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھادیا ۔ میں نے اپنے ہاتھ میں لیا تو کتے جیسا ہاتھ تھا اور اس پر کتے جیسے بال بھی تھے۔ میں نے پوچھا تم یہاں کیوں آئے ہو؟ اس نے کہا کہ تم صدقہ کو پسند کرتے ہو اور میں تمہارے مال کو لینے آیا ہوں تاکہ تم صدقہ نہ کرسکو۔ میں نے پوچھا کہ تمہارے شر سے بچنے کی کوئی تدبیر ہے؟ اس نے کہا: آیت الکرسی ، جو شخص شام کو پڑھ لے وہ صبح تک اور جو صبح کو پڑھ لے وہ شام تک محفوظ ہوجاتا ہے۔ صبح ہونے پر حضرت ابی بن کعبؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اس واقعہ کا ذکر فرمایا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ خبیث نے یہ بات بالکل سچی کہی ہے۔ (نسائی، طبرانی۔۔ الترغیب والترہیب ۶۶۲)

اسی طرح کا ایک واقعہ حضرت ابوایوب انصاریؓ کا بھی احادیث کی کتابوں میں مذکور ہے۔ غرض آیت الکرسی کے ذریعہ جنات وشیاطین سے حفاظت کے متعدد واقعات صحابہ کے درمیان پیش آئے۔ (تفسیر ابن کثیر)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص سورۂ المؤمن کو حٰمٓسے الیہ المصیر تک اور آیت الکرسی کو صبح کے وقت پڑھ لے گا‘ وہ شام تک اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہے گا اور شام کو پڑھنے والے کی صبح تک حفاظت ہوگی۔ (ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء فی سورہ البقرہ وآیہ الکرسی ج ۲۸۷۹)
آیت الکرسی اسم اعظم پر مشتمل:
حضرت اسماء بنت یزیدؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اِن دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے ایک تو آیت الکرسی اور دوسری آیت  الم اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ(مسند احمد۶/۴۶۱، ابوداؤد، کتاب الوتر، باب الدعاء ح ۱۴۹۶، ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی ایجاب الدعاء بتقدیم الحمد ح ۳۴۷۸، ابن ماجہ، کتاب الدعاء، باب اسم اللہ الاعظم ج ۳۸۵۵)
حضرت ابوامامہ الباہلیؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اسم اعظم جس نام کی برکت سے جو دعا اللہ تعالیٰ سے مانگی جائے وہ قبول فرماتا ہے، وہ تین سورتوں میں ہے سورۂ البقرہ، سورۂ آل عمران اور سورۂ طہ۔ (ابن ماجہ، کتاب الدعا،، باب اسم اللہ الاعظم ح ۳۸۵۵)
وضاحت: سورۂ البقرہ میں آیت نمبر ۲۵۵، سورۂ آل عمران میں آیت نمبر ۲ اور سورۂ طہ میں آیت نمبر ۱۱۱ہے۔
آیت الکرسی چوتھائی قرآن:
حضور اکرم ﷺ نے آیت الکرسی کو چوتھائی قرآن کہا ہے۔ (مسند احمد ۳/۲۲۱، ترمذی کتاب فضائل القرآن،باب ما جاء فی اذا زلزلت، ح ۲۸۹۵)
مفہوم آيت الکرسی: اس توحید کی اہم آیت میں ۱۰ جملے ہیں:
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ: یہی وہ پیغام ہے جس کی دعوت تمام انبیاء ورسل نے دی کہ معبود حقیقی صرف اور صرف اللہ تبارک وتعالیٰ ہے، وہی پیدا کرنے والا، وہی رزق دینے والا اور وہی اس پوری دنیا کے نظام کو تنہے تنہا چلانے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ ہم سب اس کے بندے ہیں اور ہمیں صرف اسی کی عبادت کرنی چاہئے۔ وہی مشکل کشا، حاجت روا اور ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے۔ اس نے انسانوں کی ہدایت ورہنمائی کے لئے انبیاء ورسل بھیجے۔ آخر میں تمام نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفی ﷺ کو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے رحمت للعالمین بناکر بھیجا۔
اَلْحَیُّ الْقَيُّوْمُ: لفظ حَیُّ کے معنی ہیں زندہ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور وہ موت سے بالا تر ہے۔ کُلُّ شَیْءٍ هَالِکٌ اِلَّا وَجَْهه،،، کُلُّ مَنْ عَلَيهافَانٍ، وَيَبْقٰی وَجه رَبِّکَ ذُو الْجَلَالِ وَالْاکْرَامِ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز ہلاک اور فنا ہوجانے والی ہے۔ قَیُّوْمُ مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں وہ ذات جو خود اپنے بل پر قائم اور دوسروں کے قیام وبقا کا واسطہ اور ذریعہ ہو۔ 
نوٹ: قیوم اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے، جس میں کوئی مخلوق شریک نہیں ہوسکتی، کیونکہ جو چیزیں خود اپنے وجود وبقا میں کسی دوسرے کی محتاج ہوں وہ کسی دوسری چیز کو کیا سنبھال سکتی ہیں۔ اس لئے کسی انسان کو قیوم کہنا جائز نہیں ہے۔ لہذا عبدالقیوم نامی شخص کو صرف قیوم کہہ کر پکارنا غلط ہے۔ 
لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ: سِنَۃٌکے معنی اونگھ اور نَوْمٌ کے معنی نیند کے ہیں۔ ان دونوں کی نفی سے نیند کی ابتدا اور انتہا دونوں کی نفی ہوگئی یعنی اللہ تعالیٰ غفلت کے تمام اثرات سے کمال درجہ پاک ہے۔
لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ: تمام چیزیں جو آسمانوں یا زمین میں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی مملوک ہیں، وہ مختار ہے جس طرح چاہے ان میں تصرف کرے۔
مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ: جب یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ ہی کائنات کا مالک ہے ، کوئی اس سے بڑا اور اس کے اوپر حاکم نہیں ہے تو کوئی اس سے کسی کام کے بارے میں بازپرس کرنے کابھی حق دار نہیں ہے ، وہ جو حکم جاری فرمائے اس میں کسی کو چون وچرا کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص اللہ تبارک وتعالیٰ سے کسی کی سفارش یا شفاعت کرے، سو اس کو بھی واضح کردیا کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اللہ تعالیٰ کے نیک ومقبول بندے بھی کسی کے لئے شفاعت نہیں کرسکتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ محشر میں سب سے پہلے میں ساری امتوں کی شفاعت کروں گا،یہ حضور اکرم ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے۔ اسی کا نام مقام محمود ہے، جس کا ذکر سورۂ الاسراء ۷۹ میں آیا ہے عَسَی اَنْ يَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَاماً مَّحْمُوداً ۔ نبی اکرم ﷺ کی عام امتیوں کی شفاعت کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو بھی تین شرطیں پائی جانے پر دوسروں کے لئے شفاعت کرنے کی اجازت ہوگی۔

۱) جسکے لئے شفاعت کی جارہی ہے اس سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا يَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی وَهُمْ مِّنْ خَشْيَته مُشْفِقُوْنَ (سورۂ الانبیاء ۲۸) وہ کسی کی بھی شفاعت نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو اور وہ اسکی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔
۲) شفاعت کرنے والے سے اللہ تعالیٰ راضی ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِلَّا مِنْ بَعْدِ اَن يَّاْذَنَ اللّهُ لِمَن يَّشَاءُ وَيَرْضَی(سورۂ النجم ۲۶)
۳) اللہ تعالیٰ شفاعت کرنے والے کو شفاعت کی اجازت دے۔ سورہ النجم کی آیت میں اَن يَّاْذَنَ اللّه اور آیت الکرسی میں اِلَّا بِاِذْنه سے یہ شرط واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح سورۂ یونس آیت ۳ میں ہے : مَا مِنْ شَفِيْعٍ الَّا مِنْ بَعْدِ اِذْنه اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس کے پاس سفارش کرنے والا نہیں۔
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ: اللہ تعالیٰ لوگوں کے آگے پیچھے کے تمام حالات وواقعات سے واقف ہے۔ آگے اور پیچھے کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے پیدا ہونے سے پہلے اور پیدا ہونے کے بعد کے تمام حالات وواقعات اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ اور یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ آگے سے مراد وہ حالات ہیں جو انسان کے لئے کھلے ہوئے ہیں اور پیچھے سے مراد اس سے مخفی واقعات وحالات ہوں تو معنی یہ ہوں گے انسان کا علم تو بعض چیزوں پر ہے اور بعض چیزوں پر نہیں، کچھ چیزیں اس کے سامنے کھلی ہوئی ہیں اور کچھ چھپی ہوئی ، مگر اللہ تبارک وتعالیٰ کے سامنے یہ سب چیزیں برابر ہیں، اس کا علم ان سب چیزوں کو یکساں محیط ہے ۔
وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ: انسان اور تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کے علم کے کسی حصہ کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے، مگر اللہ تعالیٰ ہی خود جس کو جتنا حصہ علم عطا کرنا چاہیں صرف اتنا ہی اس کو علم ہوسکتا ہے۔ اس آیت میں بتلادیا گیا کہ تمام کائنات کے ذرہ ذرہ کا علم محیط صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی خصوصی صفت ہے، انسان یا کوئی مخلوق اس میں شریک نہیں ہوسکتی۔
وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ: یعنی اس کی کرسی اتنی بڑی ہے کہ جس کی وسعت کے اندرساتوں آسمان اور زمین سمائے ہوئے ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نشست وبرخاست اور حیزومکان سے بالا تر ہے، اس قسم کی آیات کو اپنے معاملات پر قیاس نہ کیا جائے، اس کی کیفیت وحقیقت کا ادراک انسانی عقل سے بالاتر ہے۔ البتہ صحیح احادیث سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ عرش اور کرسی بہت عظیم الشان جسم ہیں جو تمام آسمان اور زمین سے بدرجہا بڑے ہیں۔ علامہ ابن کثیر ؒ نے بروایت حضرت ابو ذر غفاریؓ نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ کرسی کیا اور کیسی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ساتوں آسمانوں اور زمینوں کی مثال کرسی کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے ایک بڑے میدان میں انگشتری کا حلقہ (چھلّہ) ڈال دیا جائے۔ اور بعض احادیث میں ہے کہ عرش کے سامنے کرسی کی مثال بھی ایسی ہے کہ جیسے ایک بڑے میدان میں انگشتری کا حلقہ (چھلّہ) ۔
کرسی سے مراد حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے علم منقول ہے، بعض حضرات سے دونوں پاؤں رکھنے کی جگہ منقول ہے، ایک حدیث میں یہ بھی مروی ہے کہ اس کا اندازہ بجز باری تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔ ابو مالکؒ فرماتے ہیں کہ کرسی عرش کے نیچے ہے۔ سدیؒ کہتے ہیں کہ آسمان وزمین کرسی کے جوف میں اور کرسی عرش کے سامنے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمان اگر پھیلادئے جائیں تو بھی کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہوں گے جیسے ایک حلقہ (چھلّہ) کسی چٹیل میدان میں۔ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان کرسی میں ایسے ہی ہیں جیسے سات درہم ڈھال میں۔ (تفسیر بن کثیر) بعض مفسرین نے تحریر کیا ہے کہ اس کے معنی ہیں کہ اللہ کا اقتدار آسمانوں اور زمین کے تمام اطراف واکناف پر حاوی ہے، کوئی گوشہ اور کونہ بھی اس کے دائرہ اقتدار سے الگ نہیں ہے۔
وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا:اللہ تعالیٰ کو ان دونوں عظیم مخلوقات یعنی آسمان وزمین کی حفاظت کچھ گراں نہیں معلوم ہوتی کیونکہ اس قادر مطلق کی قدرت کاملہ کے سامنے یہ سب چیزیں نہایت آسان ہیں۔ ےَءُودکے معنی ہیں کسی چیز کا ایسا بھاری اور گراں ہونا کہ اس کا سنبھالنا مشکل ہوجائے۔
وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ: گزشتہ نو جملوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات وصفات کے کمالات بیان کئے گئے، ان کو سمجھنے کے بعد ہر عقل مند شخص یہی کہنے پر مجبور ہے کہ ہر عزت وعظمت اور بلندی وبرتری کا مستحق وہی پاک ذات ہے۔
ان دس جملوں میں اللہ جل شانہ کی صفات کمال اور اس کی توحید کا مضمون وضاحت اور تفصیل کے ساتھ آگیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم سمجھ کر پڑھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا بنائے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو شرک کی تمام شکلوں سے محفوظ فرمائے، آمین، ثم آمین۔

Saturday, September 24, 2016

اسلامی زندگی کے گزارنے کے رہنما اصول

مومن درحقیقت وہ شخص ہے جو دل سے اﷲ تعالی کی وحدانیت، نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے تمام عقائد واحکام پر غیر متزلزل یقین رکھتا ہو۔ اور اس کو اس بات کا پختہ یقین ہو کہ اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے انسانوں کو جو احکام دیئے ہیں وہی ان کی دین و دنیا کی فلاح کے ضامن ہیں۔ اس ایمان کا لازمی تقاضہ یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہدایات کے مطابق گزارے، جن باتوں کا اس کو حکم دیا گیا ہے ان کو بجا لائے اور جن سے روکا گیا ہے ان سے رک جائے۔
لہذا ایک مومن کی بنیادی صفت یہ ہے کہ اس کی زندگی اﷲ تعالی کی مرضی کے مطابق ہوتی ہے۔ وہ اپنے ہر کام اور نقل وحرکت میں پہلے یہ دیکھتا ہے کہ اﷲ تعالی کی طرف سے اس کو اجازت ہے یا نہیں۔ اجازت ہوتی ہے تو کرتا ہے ورنہ رک جاتا ہے۔ چنانچہ اس کو زندگی میں اپنی نفسانی خواہشات کے بہاؤ پر بہنے کے بجائے اﷲ تعالی کی مرضی کے مطابق بسر ہوتی ہے۔
مومن کی یہ وہ بنیادی اور جامع صفت ہے کہ اس کے نتیجے میں تمام نیک اور اچھی صفات اس میں خود بخود پیدا ہوجاتی ہیں۔ کیونکہ اﷲ تعالی نے جتنے احکام اپنے بندوں کو عطا فرمائے ہیں ان سب کا مقصد یہ ہے کہ انسان اچھی صفات سے آراستہ اور بری صفات سے پاک ہوجائے اور جو شخص ایک مرتبہ یہ عہد کرے کہ وہ اﷲ تعالی کے تمام احکام کی پابندی کرے گا تو لازما وہ ساری اچھی صفات اس میں پیدا ہوجائیں گی۔
مومن کی یہ صفات جو اطاعت خداوندی سے پیدا ہوتی ہیں اتنی بے شمار ہیں کہ مختصر وقت میں ان سب کا بیان ممکن نہیں۔ لیکن اگر اختصار اور جامعیت سے کام لیا جائے تو مومن کی صفات خاص طور سے زندگی کے پانچ شعبوں سے متعلق ہوتی ہیں:
عقائد۔ عبادات۔ معاملات۔ معاشرت۔ اور اخلاق۔
عقائد کے شعبے میں مومن کی بنیادی صفت قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔
’’اور یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان رکھتے ہیں ان ہدایات پر جو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل کی گئیں اور ان ہدایات پر جو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے پیغمبروں پر نازل کی گئیں اور وہ آخرت کا یقین رکھتے ہیں۔‘‘
مومن کی اس صفت کا خلاصہ یہ ہے کہ اﷲ تعالی نے اپنے انبیاء علیہم السلام کے ذریعے جتنے عقائد اور جتنی ہدایات دنیا میں بھیجی ہیں ان سب کو برحق ماننے کے ساتھ ساتھ وہ اس بات کا پختہ یقین رکھتا ہے کہ مرنے کے بعد اسے ایک ایک عمل کا جواب دینا ہوگا۔
اس یقین کی بناء پر وہ رات کی تاریکی اور جنگل کی تنہائی میں بھی حتی الامکان کسی ایسے کام کا مرتکب نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اس کو آخرت میں پروردگار کے سامنے شرمسار ہونا پڑے۔
عبادت کے شعبے میں مومن کی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو صرف اور صرف اﷲ کا بندہ سمجھتا ہے، اﷲ کے سوا کسی کو پوجتا ہے نہ کسی کے آگے جھکتا ہے، نہ کسی سے ڈرتا ہے اور نہ اس کے سوا کسی کی قدرت اور اختیار سے کسی مدد کا طلب گار ہوتا ہے اور اﷲ تعالی نے عبادت کے جتنے طریقے مقرر فرمادیئے ہیں ان سب کو پورے اخلاص عاجزی اور احساس بندگی کے ساتھ بجالاتا ہے۔ 
چنانچہ ارشاد ہے:
’’فلاح وہ مومن حاصل کریں گے جو اپنی نماز میں خشوع سے کام لیتے ہیں۔‘‘
اور آگے ارشاد ہے:
’’اور جو لوگ رب کی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے اور جو لوگ کہ (اﷲ کی راہ) میں جو کچھ دیتے ہیں اس طرح دیتے ہیں کہ (مال خرچ کرنے کے باوجود) ان کے دل اس بات سے ڈرے ہوئے رہتے ہیں کہ انہیں اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کرجانا ہے اور یہ لوگ دوڑ دوڑ کر نیکیوں کی طرف جاتے ہیں اور ان نیکیوں میں سبقت لے جاتے ہیں۔‘‘
مطلب یہ کہ اﷲ تعالی کی بدنی عبادت کا معاملہ ہو یا اس کی راہ میں مال خرچ کرکے مالی عبادت کا سوال ہو مومن کی صفت یہ ہے کہ وہ سب سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔
اور معاملات کے شعبے میں مومن کی صفت ہے کہ وہ اپنی بات کا سچا اور وعدے کا پکا ہوتا ہے وہ کسی سے دھوکہ، فریب، بدعہدی کا معاملہ نہیں کرتا اور بے جا طریقے سے دوسرے کا حق غصب کرنے کی فکر میں نہیں رہتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:
’’اور وہ مومن فلاح یافتہ ہیں جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کا پاس کرنے والے ہیں۔‘‘
لفظ ’’امانت‘‘ کے لغوی معنی ہر اس چیز کو شامل ہیں جس کی ذمہ داری کسی شخص نے اٹھائی ہو اور اس کے معاملے میں اس پر بھروسہ کیا گیا ہو اور چونکہ ایسی امانت کی بہت سی قسمیں ہیں اس لئے قرآن کریم نے اس کے لئے جمع کا صیغہ استعمال فرمایا ہے تاکہ اس میں امانت کی تمام قسمیں شامل ہوجائیں اس میں مالی امانت تو ظاہر ہی ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنا کوئی مال کسی کے پاس رکھوایا ہو تو یہ اس کی امانت ہے جسے واپس کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔
اس کے علاوہ کسی نے کوئی راز کی بات کسی سے کی ہو تو یہ بھی اس کی امانت ہے۔ اور شرعی عذر کے بغیر اس راز کا کسی پر ظاہر کرنا اس امانت میں خیانت ہے۔
اس طرح کسی ملازم کو جتنے وقت کے لئے ملازم رکھا اس پورے وقت کو ملازمت کے کام میں لگانا بھی امانت ہے۔ اور وقت کی چوری یا کام کی چوری خیانت کے حکم میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امانت کا پاس کرنا بڑا جامع لفظ ہے جس میں معاملات کی بے شمار قسمیں داخل ہوجاتی ہیں اور مومن کی صفت یہ ہے کہ وہ ان تمام امانتوں کا پاس کرتا ہے۔
اسی طرح وعدے اور معاہدے کا پاس کرنے میں بھی معاملات کی بہت سی صورتیں داخل ہوجاتی ہیں۔ اشیائے فروخت میں ملاوٹ یا ان کے عیب کو چھپانا یا کم ناپ تول کا ارتکاب یہ تمام جرائم عہد شکنی میں داخل ہیں۔ اور مومن کی صفت یہ ہے کہ اسے اپنے معاہدے کا پاس ہوتا ہے وہ جیسا معاہدہ کرتا ہے اس کے مطابق عمل بھی کرتا ہے۔ کیونکہ اسے یقین ہے کہ اگر بدعہدی کے نتیجہ میں اس نے کچھ تھوڑا بہت ظاہری نفع کما بھی لیا تو دنیا وآخرت دونوں میں اس کا انجام بڑا ہی ہولناک ہوگا۔ معاملات کی صفائی، امانت داری اور معاہدے کی پابندی مومن کا وہ طرہ امتیاز رہا ہے جسے دیکھ کر ماضی میں بہت سے کافر مسلمان ہوئے۔
عبادت میں اگر تھوڑی بہت کوتاہی ہوجائے تو اس کی تلافی توبہ سے ہوسکتی ہے، لیکن بدمعاملگی اور حقوق العباد کو تلف کرنے کی تلافی صرف توبہ سے بھی ممکن نہیں جب تک کہ صاحب حق کو اس کا حق نہ پہنچادیا جائے۔ یا وہ خوش دلی سے از خود معاف نہ کردے اس وقت تک اس گناہ عظیم کے معاف ہونے کی کوئی صورت نہیں۔
چنانچہ جب اسلام عملا دنیا میں نافذ تھا تو اس وقت مسلمان خواہ کتنا ہی گیا گزرا ہو، لیکن چھوٹ، دھوکہ، فریب، بدعہدی، خیانت کو کسی قیمت پر گوارا نہیں کرتا تھا۔
زندگی کا چوتھا شعبہ معاشرت ہے یعنی دوسروں کے ساتھ میل جول اور باہمی تعلقات کے انداز۔
اس شعبے میں ایک مومن کی بنیادی صفت سرکار دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ:
’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ ہوں۔‘‘
’’اور مومن وہ ہے جس سے دوسروں کو اپنی جان ومال کے معاملے میں کوئی خطرہ نہ ہو۔‘‘
اسلام کے نظام معاشرت کے تمام احکام اس بنیادی اصول کے گرد گھومتے ہیں کہ ہر مسلمان اس بات کا دھیان رکھے کہ اس کے کسی طور طریقے اور کسی عمل سے دوسرے کو کسی قسم کی جسمانی یا نفسیاتی تکلیف نہ پہنچے۔ کسی شخص کو دل آزار باتیں کہنا، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی کرنا، کسی کی چغلی کھانا، کسی کے خلاف بدگمانی میں مبتلا ہونا، کسی کے عیوب کی جستجو کرنا کسی کی اجازت کے بغیر اس کی خلوت میں مخل ہونا۔ یہ سب وہ گناہ ہیں جنہیں قرآن کریم نے صریح الفاظ میں ممنوع قرار دیا ہے۔
اور ایک مومن کی صفت یہ ہے کہ وہ اس قسم کی تمام گھٹیا باتوں سے مکمل پرہیز کرتا ہے۔
آخری شعبہ ’’اخلاق‘‘ کا ہے اور اس شعبے میں سرکار دوعالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیم یہ ہے کہ:
’’مکمل ایمان ان ہی لوگوں کا جو خوش اخلاق ہوں گے۔‘‘
خوش اخلاقی کا مطلب یہ ہے کہ انسان میں تکبر کے بجائے تواضع اور انکسار، بخل کے بجائے سخاوت، بزدلی کے بجائے بہادری، سخت مزاجی کے بجائے رحم دلی، جلد بازی کے بجائے تحمل، زبان درازی کے بجائے خوش کلامی اور فحاشی کے بجائے عفت وپاکیزگی پائی جائے۔ اس سے مل کر اس کی باتیں سن کر اس کے کردار کو دیکھ کر دوسرے کو انقباض کے بجائے فرحت حاصل ہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ انسانی شرافت کی جتنی اچھی صفات ہوسکتی ہیں ایک مومن کو ان سب کا مجموعہ ہونا چاہیے۔ اور جس شخص میں ان صفات کی جتنی کمی ہے اتنا ہی اس کا ایمان نامکمل ہے۔ اور جو شخص ان صفات سے محروم ہے وہ خواہ قانونی طور پر مسلمان ہی کہلائے لیکن جس قسم کا مسلمان اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو مطلوب ہے اس سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔
اﷲ تعالی ہم سب کو ان صفات سے آراستہ ہونے کی توفیق عطا فرمائے جو ایمان کا لازمی تقاضہ ہیں جن سے مزین ہوکر قرون اولی کے مسلمانوں نے دنیا بھر پر اپنے عروج و اقبال کے پرچم لہرائے ہیں اور آج بھی ہماری دنیا وآخرت سنوارنے کے لئے لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہیں۔

Monday, July 11, 2016

جمال الدین افغانی

جمال الدین افغانی
پیدائش: 1838ء افغانستان
وفات: 1897ء ترکی
 
مسلم رہنما ۔ پورا نام سید محمد جمال الدین افغانی ۔والد کا نام سید صفدرخان ۔ مشرقی افغانستان کا کنڑ صوبے کی اسعدآباد میں پیدا ہوئے۔ پان اسلام ازم یا وحدت عالم اسلام کے زبردست داعی اور انیسویں صدی میں دنیائے اسلام کی نمایاں شخصیت تھے۔
آپ نے اسلامی ممالک کو مغربی اقتدار سے آزاد کرانے کی جدوجہد کی۔ آپ کا مقصد مسلم ممالک کو ایک خلیفہ کے تحت متحد کرکے ان کا ایک آزاد بلاک بنانا تھا۔
آپ عہد شباب میں افغانستان کے امیر محمد اعظم خان کے وزیر رہے۔ انگریزوں کی سازش سے افغانستان میں بغاوت ہوئی تو ہندوستان آگئے۔ مگر یہاں دو ماہ سے بھی کم قیام کی اجازت ملی۔ یہاں سے آپ ترکی گئے مگر وہاں بھی درباری علما اور مشائخ نے ٹکنے نہ دیا تو مجبوراً قاہرہ کا رخ کیا۔ قاہرہ میں آٹھ سال تک رہے اور اپنے نظریات کی بڑے زور و شور سے تبلیغ کی۔ اب آپ کا حلقۂ اثر بہت وسیع ہوگیا تھا۔ اور اسلامی ملکوں میں انگریزوں کے مفادات پر ضرب پڑ رہی تھی۔ اس خطرے کے سدباب کے لیے انگریزوں نے خدیو مصر پر دباؤ ڈالا اور اس کے حکم پر آپ کو مصر چھوڑنا پڑا۔
مصر سے آپ پیرس گئے اور وہاں ’’العروۃ الوثقٰی ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ عربی زبان میں جاری کیا۔ یہ رسالہ وحدت اسلامی کا نقیب تھا۔ مگر یہ دس ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری نہ رہ سکا۔ آپ نے روس انگلستان اور حجاز کا بھی سفر کیا۔ آخری عمر میں سلطان ترکی کی دعوت پر قسطنطنیہ گئے تھے۔ یہیں سرطان کے مرض میں مبتلا ہو کر وفات پائی۔ ایک خیال یہ ہے کہ دربارِ ترکی کے ایک عالم نے انہیں حسد کی وجہ سے زہر دے کر شہید کیا۔ آپ کے قریبی ساتھیوں اور شاگردوں میں شیخ محمد عبدہ مصری بہت مشہور ہیں۔
حضرت علامہ محمد اقبال رح نے اپنی فارسی کتاب جاوید نامہ میں ایک طویل نظم ان کےنام کی
ہے جس کا عنوان ہے “زیارت ارواح جمال الدین افغانی و سعید حلیم پاشا”
جس کے چند اشعار درج ذیل ہیں
لُردِ مغرب آں سراپا مکر و فن
اہل دیں رَا داد تعلیمِ وطن
{افغانی کہتا ہے} مغرب کے لارڈ نے، جو سراسر مکر و فریب ہے اہل دین کو وطن {نیشنلیزم}
کی تعلیم دی ہے،یورپ نے مسلمانوں کو تو نظریہ دین سے دور کیا ہے
اُو بَفکرِ مرکز و تُو دَر نِفاق
بُگذَر اَز شام و فلسطین و عراق
لیکن وہ خود تو مرکزیت کے فکر میں ہے اور تو نفاق میں پڑا ہوا ہے، تو {مسلمان} بھی
شام و فلسطین اور عراق کی علیحدگی کی باتیں چھوڑ
تو اگر داری تمیزِ خُوب و زَشت
دل نَبَندی با کَلوخ و سنگ و خِشت
اگر تو اچھے برے کی تمیز رکھتا ہے تو پھر اپنا دل مٹی پتھر اور اینٹ سے نہ لگا
چیست دین؟ برخاستن اَز روے خاک
تا زَ خود آگاہ گَردَد جانِ پاک
دین کیا ہے؟ خاک پر سے اوپر اٹھنے کا نام ہے تاکہ جانِ پاک اپنے آپ سے آگاہ ہوجائے
می نَگَنجد آنکہ گُفت اﷲ ھو
دَر حَدودِ ایں نظامِ چار سُو
جو کوئی “اللہ ھو” کہتا ہے وہ اس چار طرفوں والے نظام { زمان و مکان} کی حدود میں نہیں سماتا


Saturday, January 23, 2016

اپنا قبلہ درست کریں

مسلمان کیا ہے ؟
اس سوال کی بہت ہی آسان تعریف کی جاتی ہے کہ اﷲ تعالی کے فرائض کو پورا کرنے اورحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والا ہی مسلمان ہے۔ اگر کچھ تفصیل سے تعریف کی جائے تو اﷲ تعالیٰ کے فرائض کو پوری ایمانداری سے ادا کرنے والا اور ساتھ میں محمد کریم ﷺ کی دی ہوئی شریعت پر مکمل عمل پیرا ہی مسلمان ہے۔ ہم میں سے ہر شخص مسلمان ہے اوراگر وہ نہیں بھی تو خود کو مسلمان ضرور سمجھتا ہے۔

کچھ لمحوں کے لئے اگر حقیقت سے پردہ اٹھایا جائے تو ہمارے سامنے جو حقیقت آشکارہ ہوتی ہے اس میں آج کا مسلمان اﷲ اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو تو مانتا تاہم ان اپنی خواہشات کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ آج ہر شخص ایک الگ تھلگ مسلمان بنا پھرتا ہے اور اس کے مطابق صرف وہ ہی مسلمان ہے۔ اپنے اپنے الگ اسلام کو لے کر چلنے والوں نے اسلام کے نظریات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ شریعت اسلامیہ نے تمام مسلمانوں کو ایک جز قرار دیتے ہوئے کہا کہ’’ مسلمان ایک جسم کی ماند ہوتے ہیں، اگر جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم درد کو محسوس کرتا ہے‘‘۔ مگر اس وقت ہمارے اسلام اور مسلمان ہونے پر افسوس کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

جن مسلمانوں کو اﷲ تعالیٰ کا قرآن ’’ایک اﷲ کی رسی کو مظبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹو‘‘ کی تلقین کر رہا آج وہ مسلمان فرقہ واریت میں بٹ چکے ہیں۔ فرقہ واریت میں بھی یہ نہیں کہ وہ جس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں اس فرقہ کی تقلید میں عبادت بھی کر رہے ہیں۔ فرقہ واریت بھی بس اس حد تک محدود ہوگئی ہے کہ کسی دوسرے فرقہ کا اگر کوئی انسان کسی اور فرقہ پر سوال اٹھادے تو اس سے لڑ جھگڑ لیتے ہیں اور بس... جو انسان جس فرقہ سے تعلق رکھتا ہے وہ یہی سوچتا ہے کے اس کا فرقہ درست ہے اور میں ہی سچا مسلمان ہوں ، لیکن اسے خود کو بھی صحیح سے معلوم نہیں ہوتا ہے کہ آیا وہ جس فرقہ کو درست قرار دے رہا وہ ہے بھی یا نہیں، بس بزرگوں نے فرمادیا ، ان کے قائد نے کہا ہے تو ٹھیک ہی کہا ہوگا۔

کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے کس فرقہ کے بارے میں بتا یا کہ وہ ٹھیک ہے اور فلاں ٹھیک نہیں ہے۔ ان فرقوں میں سے کونسے فرقے اﷲ کے نزدیک ہیں اور کونسے نہیں نا ۔ عہدنبوت میں کوئی بھی ایسے فرقہ واریت نہیں ہوا کرتی تھی، تب تو صرف سب مسلمان ہوا کرتے تھے۔ اس وقت اگر کوئی غیر مسلم اسلام قبول کرتا تو تھا وہ یہ نہیں پوچھتا تھا کہ اب مجھے یہ بھی بتائیں کہ میں کس فرقے کو جوائن کروں۔ مگر آج تو خود ایک مسلمان جب کچھ اسلام کے قریب آنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے کہا جاتا کہ ہے یہ ٹھیک ہے ،وہ غلط ، یہ کافر وہ مسلمان ہے جس کی وجہ سے وہ بد ظن ہوکر سوچتا ہے کہ پہلے والی زندگی ہی ٹھیک ہے۔

ہم فرقہ واریت میں بری طرح پھنس کر رہے چکے ہیں۔ اتنا کہ ہم ایک دوسرے کے عبادت کے طریقوں پر نقص نکالنے سے بعض نہیں رہتے۔ کوئی بدعت تو کوئی شرک جیسی لت میں پڑا ہوا ہے تاہم وہ یہ جاننے کی کبھی کوشش نہیں کرتا کہ درست کر رہا ہوں یہ غلط، بلکہ اپنی اصلاح کی بجائے وہ دوسرے پر تنقید کرتا نظر آتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صرف وہ مسلمان ہیں کہ جس کو رسول اکرم ﷺ آسمانوں سے لے کر آئے تھے ۔ صرف ایک قران اور سنت نبوی ﷺ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عبادت کرتے رہنا ہی اسلام ہے، ناکہ دوسروں کے طریقوں پرتنقید کرنا یا ان کا مذاق اڑانا عبادت میں شامل ہے۔ سب عبادت اﷲ کے لئے کرتے ہیں اس لئے قبولیت کا ذمہ بھی اﷲ تعالیٰ ہے۔ وہ ذات سب کے دلوں کے حال کو اچھے سے جانتی ہے۔

جب ہم خود کو فرقوں میں بانٹ کر خانہ جنگی میں پڑ گئے تو عالم کفر کو ہمارے مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی جرات ہوئی۔ ورنہ اگر مسلم ایک جت ہوتے تو کبھی بھی کسی کافر کو رسولﷺ کی ناموس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی بھی ہمت نہ ہوتی۔ ہمارے علماء کرام کو اﷲ سے ڈرنا چاہئے کہ انہوں نے قوم کی اصلاح کی بجائے قوم کو فرقوں میں، نفرتوں بانٹ کر رکھ دیا ہے۔ یاد رکھیں جب کوئی کافر اسلام کے خلاف سازش کرتاہے تو ان کے لئے سنی ،شیعہ ، دیوبندی ، اہلحدیث سب برابر ہوتے ہیں۔ جب وہ ہمیں مارتے ہیں تو ایک مسلمان سمجھ کر مگر ہم خود کو نہ جانے کیوں ایک مسلمان سمجھ نہیں سمجھتے۔ اتنا جان لیں جب محشر کے روز ہم سے سوال ہوگا تو ہم سے فرقوں کے بارے میں نہیں بلکہ صرف عبادت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ کیا آج ہم اپنی تیاری کر رہے ہیں ، اگر نہیں تو آج سے اپنا قبلہ درست کرلیں، شاید اﷲ تعالیٰ ہمیں معاف کر کے ہمارے اسلام کو پسند کر لے۔

تحریر علیشبہ احمد


Wednesday, January 6, 2016

منافقین کی اَقسام

پہلی قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کے برحق ہونے کے قائل تھے لیکن اس کی خاطر نہ اپنے مفادات کی قربانی کے لئے تیار تھے اور نہ مصائب و آلام کو برداشت کرنے کے لئے لہذا کچھ خود غرضی و مفاد پرستی اور کچھ بزدلی ان کے سچا مسلمان ہونے کے راستے میں حائل تھی۔

دوسری قسم ایسے منافقین کی تھی جو دل سے قطعاً اسلام کے منکر تھے اور محض سازش اور فتنہ و شر کے لئے اسلامی صفوں میں گھس آئے تھے۔ یہ اسلام کے بہت بڑے دشمن تھے۔

تیسری قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کے اقتدار و حکومت کے باعث مفاد پرستانہ خواہشات کے تحت اسلام سے وابستہ ہو گئے تھے۔ لیکن مخالفینِ اسلام سے بھی اپنا تعلق بدستور قائم رکھے ہوئے تھے تاکہ دونوں طرف سے حسبِ موقع فوائد بھی حاصل کر سکیں اور دونوں طرف کے خطرات سے بھی محفوظ رہیں۔

چوتھی قسم ایسے منافقین کی تھی جو ذہنی طور پر اسلام اور کفر کے درمیان متردد تھے۔ نہ انہیں اسلام کی حقانیت پر کامل اعتماد تھا اور نہ وہ اپنی سابقہ کفر یا جاہلیت پر مطمئن تھے وہ اوروں کی دیکھا دیکھی مسلمان ہو گئے تھے لیکن اسلام ان کے اندر راسخ نہیں ہوا تھا۔

پانچویں قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کو حق سمجھے ہوئے دل سے اس کے قائل تو ہو چکے تھے لیکن پرانے اوہام و عقائد اور رسم و رواج کو چھوڑنے، دینی اور اخلاقی پابندیوں کو قبول کرنے اور اوامر و نواہی کے نظام پر عمل پیرا ہونے کے لئے ان کا نفس تیار نہیں ہو رہا تھا۔

چھٹی قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کو توحید، احکامِ الٰہی اور آخرت وغیرہ پر ایمان لانے کی حد تک تو تسلیم کرتے تھے لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی اور وفاداری سے گریزاں تھے۔ نہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و سیادت دل سے ماننے کو تیار تھے اور نہ آپ کی حاکمیت و شفاعت۔ اس میں وہ اپنی ہتک اور ذلت محسوس کرتے تھے۔ چنانچہ وہ تعلق نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر ذاتِ ربانی تک رسائی حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔

اسلام اپنے پیروکاروں کو تمام منافقین کی پہچان کروانا چاہتا تھا تاکہ وہ مسلمانوں کی صفوں میں موجود رہ کر اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ نہ پہنا سکیں۔ اس لئے سورہ بقرہ نے اس سلسلے میں اہم اشارات فراہم کئے تاکہ حق و باطل میں امتیاز کا صحیح شعور پیدا ہو سکے۔ اس کا دوسرا رکوع اس ضمن میں بطورِ خاص نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔

ارشاد ہوتا ہے
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُولُ آمَنَّا بِاللّهِ وَبِالْيَوْمِ الآخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ يُخَادِعُونَ اللّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلاَّ أَنفُسَهُم وَمَا يَشْعُرُونَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللّهُ مَرَضاً وَلَهُم عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لاَ تُفْسِدُواْ فِي الأَرْضِ قَالُواْ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَـكِن لاَّ يَشْعُرُونَ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُواْ كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُواْ أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَـكِن لاَّ يَعْلَمُونَ وَإِذَا لَقُواْ الَّذِينَ آمَنُواْ قَالُواْ آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِيـْنِهِمْ قَالُواْ إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ اللّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُاْ الضَّلاَلَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُواْ مُهْتَدِينَ مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَاراً فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لاَّ يُبْصِرُونَ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لاَ يَرْجِعُونَ أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَّرَعْدٌ وَّبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِم مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ وَاللّهُ مُحِيطٌ بِالْكَافِرِينَ يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُم مَّشَوْاْ فِيهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُواْ وَلَوْ شَاء اللّهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ إِنَّ اللَّه عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

البقرة، 2: 8.20
اور لوگوں میں سے بعض وہ (بھی) ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر اور یومِ قیامت پر ایمان لائے حالانکہ وہ (ہرگز) مومن نہیں ہیں وہ اللہ کو (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو)اور ایمان والوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر (فی الحقیقت) وہ اپنے آپ کو ہی دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے ان کے دلوں میں بیماری ہے، پس اللہ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد بپا نہ کرو، تو کہتے ہیں: ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں آگاہ ہو جاؤ! یہی لوگ (حقیقت میں) فساد کرنے والے ہیں مگر انہیں (اس کا) احساس تک نہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (تم بھی) ایمان لاؤ جیسے (دوسرے) لوگ ایمان لے آئے ہیں، تو کہتے ہیں کیا ہم بھی (اسی طرح) ایمان لے آئیں جس طرح (وہ) بیوقوف ایمان لے آئے، جان لو بیوقوف (درحقیقت) وہ خود ہیں لیکن انہیں (اپنی بیوقوفی اور ہلکے پن کا) علم نہیں اور جب وہ (منافق) اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم (بھی) ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیطانوں سے تنہائی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم یقینا تمہارے ساتھ ہیں، ہم (مسلمانوں کا تو) محض مذاق اڑاتے ہیں اللہ انہیں ان کے مذاق کی سزا دیتا ہے اور انہیں ڈھیل دیتا ہے (تاکہ وہ خود اپنے انجام تک جا پہنچیں) سو وہ خود اپنی سرکشی میں بھٹک رہے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی لیکن ان کی تجارت فائدہ مند نہ ہوئی اور وہ (فائدہ مند اور نفع بخش سودے کی) راہ جانتے ہی نہ تھے ان کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس نے (تاریک ماحول میں) آگ جلائی اور جب اس نے گرد و نواح کو روشن کر دیا تو اللہ نے ان کا نور سلب کر لیا اور انہیں تاریکیوں میں چھوڑ دیا اب وہ کچھ نہیں دیکھتے یہ بہرے، گونگے (اور) اندھے ہیں پس وہ (راہِ راست کی طرف) نہیں لوٹیں گے یا ان کی مثال اس بارش کی سی ہے جو آسمان سے برس رہی ہے جس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک (بھی) ہے تو وہ کڑک کے باعث موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں، اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے یوں لگتا ہے کہ بجلی ان کی بینائی اچک لے جائے گی، جب بھی ان کے لئے (ماحول میں) کچھ چمک ہوتی ہے تو اس میں چلنے لگتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں، اور اگر اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل سلب کر لیتا، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

Tuesday, November 10, 2015

علم کی تعریف (حقیقی علم کس کو کہتے ہیں؟)

:فنی اعتبار سے علم کا مادہ ’’ع ل م،، ہے جس کے معنی ’’جاننا،، کے ہیں گویا

اَلْعِلْمُ اِدْرَاکُ الشَّيئِ بِحَقِيْقَتِه
’’علم کسی شے کو اس کی حقیقت کے حوالے سے جان لینے کا نام ہے۔،،

یعنی علم ایک ایسا ذہنی قضیہ اور تصور ہے جو عالم خارج میں موجود کسی حقیقت کو جان لینے سے عبارت ہے۔ علم کا اطلاق ایسے قضیے پر ہوتا ہے جو محکوم اور محکوم بہ پر مشتمل ہو اور جس کے متوازی خارج میں ایسی ہی حقیقت موجود ہو جیسی قضیے میں بیان ہوئی ہو، لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر قضیہ علم نہیں ہو سکتا، وہی قضیہ علم کہلائے گا جو کلی اور وجوبی ہو اور موجود خارج کے حوالے سے صحت کا مصداق ہو۔

ارکان علم

مندرجہ بالا تعریف کے مطابق علم کے ارکان کی تعداد چار ہے۔

:ناظر

جو شخص علم کے بارے میں جاننا چاہتا ہے وہ ناظر کہلاتا ہے۔ یہ امتیاز اور درجہ اشرف المخلوقات یعنی حضرت انسان کو حاصل ہے۔ اسے معروف اصطلاح میں طالب علم بھی کہتے ہیں، یعنی کچھ جاننے کی جستجو میں رہنے والا طالب علم کہلاتا ہے۔ علم ایک بحر بیکراں ہے۔ کوئی شخص کلی علم حاصل کر لینے کا دعویٰ نہیں کر سکتا البتہ علم کا طالب جب کچھ نہ کچھ جان لے تو اسے عالم کہا جا سکتا ہے۔

: منظور

منظور وہ شے ہے جسے جانا جا رہا ہو۔ اس سے مراد کوئی حقیقت ہوسکتی ہے، خواہ یہ عقلی وجود رکھتی ہو یا حسی۔ یہ کائنات رنگ و بو اور اس کے مادی اور غیر مادی موجودات و حقائق منظور کا درجہ رکھتے ہیں۔

:استعداد نظر 

اس سے مراد یہ ہے کہ ناظر جو مشاہدہ کر رہا ہے اس میں کسی چیز کو جاننے کی صلاحیت اور اور استعداد کس قدر موجود ہے۔ علم کا یہ تیسرا رکن ہے۔ اگر منظور (وہ حقیقت جس کے بارے میں جانا جا رہا ہو) حسی نوعیت کی ہو تو ناظر کو حواس خمسہ کی استعداد حاصل ہونی چاہئے تاکہ وہ حواس خمسہ سے اس چیز کو اپنے حیطہ ادراک میں لے سکے۔ اس کے برعکس اگر منظورعقلی نوعیت کا ہو تو ناظر میں استعداد عقلی کا ہونا ضروری ہے۔ اس استعداد کے بغیر عقلی نوعیت کے کا حیطہ ادراک میں آنا ممکن نہیں۔ اگر منظورایسا ہو کہ اس کے لئے وجدان ضروری ہے تو ناظر کو بھی ایسی ہی وجدانی استعداد کا حامل ہونا چاہئے۔ ان صلاحیتوں سے بالاتر بھی ایک استعداد وحی کی ہے جو صرف اور صرف انبیاء کا خاصہ ہے۔ عام آدمی کا اس استعداد سے بہرہ ور ہونا ممکن ہی نہیں یہ صلاحیت کلی طور پر عطائی ہے جو اللہ رب العزت کے انبیاء اور رسولوں سے مختص ہے۔

: منظوریت 

علم کے ارکان میں چوتھا اور آخری رکن منظوریت ہے۔ اس سے مراد وہ اصلیت اور مقصدیت ہے جسے جاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس حقیقت کے لئے لازم ہے کہ وہ اس قابل ہو کہ ناظر کی کسی بھی مخصوص استعداد سے معلوم ہو سکے۔

  تصور علم سورہ علق کی روشنی میں 

علم کی تعریف اور اس کے ارکان کی تشریح و توضیح کے بعد اب ہم سورہ علق کی پہلی پانچ آیات کی تفہیم کی روشنی میں اسلام کے تصور علم کو واضح کرتے ہیں۔ 

١٧ مضان المبارک کو غار حرا کی خلوتوں میں جب جبرئیل امین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو وحی کے ذریعہ اللہ رب العزت اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان الفاظ میں ہمکلام ہوا

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ- خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ- اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ- عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
اے حبیب! اپنے رب کے نام سے آغاز کرتے ہوئے پڑھئے جس نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اس نے انسان کو رحمِ مادر میں جونک کی طرح معلّق وجود سے پیدا کیا پڑھیئے اور آپ کا رب بڑا ہی کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے لکھنے پڑھنے کا علم سکھایا جس نے انسان کو اس کے علاوہ بھی وہ کچھ سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ یا:- جس نے سب سے بلند رتبہ انسان محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بغیر ذریعہ قلم کے وہ سارا علم عطا فرما دیا جو وہ پہلے نہ جانتے تھے
 (العلق، 96 : 1 - 5)

یہ وہ پانچ آیات مقدسہ ہیں جن میں علم کا پیغام دے کر نازل کیا گیا۔ گویا انسان کچھ نہیں جانتا تھا اسے علم عطا کیا گیا، وہ جاننے لگا، اسے اندھیروں سے اجالوں کے دامن میں لایا گیا۔ اسے روشنی عطا کی گئی، علم و آگہی روشنی کے سفر کا نام ہے۔ مذکورہ بالا آیات کے ذریعہ رب کائنات نے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسط سے نسل آدم کو باقاعدہ ایک سلسلہ تعلیم سے منسلک کر دیا۔ ذہن انسانی میں شعور و آگہی کے ان گنت چراغ روشن کئے۔ گویا تاریخ اسلام میں سب سے پہلا سکول غار حرا کی خلوتوں میں قائم ہوا۔ اس سکول کے واحد طالب علم ہونے کا شرف سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نصیب ہوا اور استاد و مربی خود خالق کائنات ٹھہرے۔
 
 

Sunday, August 2, 2015

وہ نعمت جس کا کوئی بدل نہیں

والدین اﷲ تبارک و تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اولاد کی آنکھوں کی ٹھنڈک باعث سکون و راحت ہے۔ غموں کا مداوا ہے، سرمایہ حیات بھی ہے اور سرمایہ آخرت بھی ہے۔ والدین کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید میں جابجا ایسے مقامات ہیں جہاں عقیدہ توحید، ایمانیات، اطاعت الٰہی عزوجل اور اطاعت رسولﷺ کے ذکر کے فورا بعد کسی اور موضوع کو درمیان میں لائے بغیر جس موضوع کو بیان کیا گیا وہ والدین کے حقوق سے متعلق ہے، جو عمیق نظر سے دیکھا جائے تو ہماری عملی، سماجی اور معاشرتی زندگی کا اولین عنوان ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا تعلق انسان سے ہے اور انسانی زندگی کا آغاز ماں باپ سے ہوتا ہے۔ یعنی خاندانی زندگی کی عمارت عائلی نظام میں ماں باپ پر استوار ہوتی ہے۔
اﷲ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے۔
واذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لاتعبدون الا اﷲ وبالوالدین احسانا
اور (یاد کرو) جب ہم نے اولاد یعقوب سے پختہ عہد لیا کہ اﷲ کے سوا (کسی اور کی) عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔
یہاں اس امر کی صراحت ضروری ہے کہ حکم اوراس کی یہی ترتیب حضرت آدم علیہ السلام کی امت سے لے کر خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ کی امت تک جاری و ساری رہی ہے۔ تمام بنی نوع انسان کو یہی تلقین کی جاتی رہی ہے کہ تمہاری جبین نیاز سوائے ذات باری تعالیٰ کے کسی اور کے سامنے نہ جھکے اور اپنے والدین کے ساتھ احسان اور فروتنی سے پیش آئو۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تعلیم، تاکید کے ساتھ ہر دور میں ہر نبی کی امت کو دی گئی اور یہ حکم آج بھی ہمیشہ کی طرح امت محمدیﷺ کے لئے مفروض الاطاعت ہے۔
والدین
سورۃ الاسراء میں والدین سے نیکی اور بھلائی کا حکم دینے کے بعد ارشاد فرمایا گیا۔
اما یبلغن عندک الکبر احدہما او کلہما فلا تقل لہما اف ولا تنہرہما وقل لہما قولا کریما O واخفض لہما جناح الذل من الرحمہ وقل رب الرحمہا کما ربیٰنی صغیرا
ترجمہ: اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اف‘‘ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو۔ اور ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجزوانکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (بارگاہ خداوندی) میں عرض کرتے رہو۔ اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔
ان آیات مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اگر والدین یا دونوں میں سے کوئی ایک تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو پھر انہیں اف تک کا کلمہ کہنے کی بھی ممانعت ہے۔ اگرچہ تمہیں ان کی بات اچھی لگے یا نہ لگے۔ اگرچہ تمہاری طبیعت کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔ خبردار! تمہاری زبان سے ان کے لئے اف تک نہ نکلے۔
اف تک نہ کہنا کا یہ معنی ہے کہ تمہاری زبانیں تمہارے والدین کے بارے میں اس حدتک بند ہوجائیں کہ ان کی پوشیدہ و ظاہری بات پر کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار نہ ہونے پائیں۔ اور قرآن مجید کے اس لفظ ’’اف‘‘ نہ کہنے پر غور کیا کہ ایسا کیوں فرمایا گیا؟ یہ بات اس لئے کہی گئی کہ جب کوئی اولاد اف کہتی ہے کہ والدین یا دونوں میںسے کوئی ضعیف العمر کی کیفیت میں ہوتے ہیں۔
یہ دو آیات مبارکہ جس طرف اشارہ کررہی ہیںکہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔ والدین سے حسن سلوک کرتے ہوئے اپنی زبان سے اف بھی نہ کہو اور کبھی سخت لہجہ میں بات نہ کہی جائے کہ جوکہ والدین کریمین کی دل آزاری کا باعث بنے۔ اﷲ کے احکام سے ہمیں یہ تربیت ملتی ہے کہ اپنے والدین کا بڑھاپے میں خاص خیال رکھے اور اس دور میں ان سے نیکی اور بھلائی میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کی جائے۔ یہ بڑی آزمائش اور صبر کا امتحان ہے۔
والدین کے حقوق کے سلسلہ میں بے شمار احادیث مبارکہ ہیں جیساکہ حدیث شریف میں ہے۔
حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ منبر اقدس پر جلوہ افروز ہوئے۔ آپ نے تین مرتبہ فرمایا۔ ’’آمین آمین آمین‘‘ کسی نے دریافت کیا یا رسول اﷲﷺ!آپ نے کس چیز پر آمین فرمایا؟ آپ نے ارشاد فرمایا۔ میرے پاس حضرت جبریل علیہ السلام آئے، انہوں نے یہ کہا۔
اے محمدﷺ اس آدمی کی ناک خاک آلود ہوجائے جس کے سامنے آپ کا ذکر مبارک کیا جائے اور وہ شخص آپ پر درود نہ پڑھے۔ آپ اس پر آمین کہیں تو میں نے اس پر آمین کہا۔
پھر انہوں نے کہا، وہ آدمی رسوا ہو جس کے پاس رمضان شریف کا مقدس ماہ آیا تو اس شخص کی بخشش مغفرت نہ ہو تو اس پر بھی آپ نے آمین کہا۔
(تیسرا وہ شخص) رسوا ہو جس نے اپنے والدین یا دونوں میں سے کسی ایک کو بھی پایا تو وہ اس کی جنت کا موجب نہ بنے، جبریل علیہ السلام نے کہا اس پر آمین کہو تو میں نے آمین کہا۔
ایک اور مقام پر حضور اقدسﷺ نے فرمایا۔
حضرت ابو درداء رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ والد جنت کے دروازوں میں درمیانہ (سب سے بہتر اور اعلیٰ) دروازہ ہے، اب یہ تم پر ہے کہ یا تو اس دروازے کو ضائع کرو یا اس کی حفاظت کرو۔
ان احادیث میں صراحتا فرمایا گیا کہ جو شخص والدین جیسی عظیم نعمت پاکر ان کی قدر اور خدمت کرکے جنت کا سامان مہیا نہ کرسکے۔ وہ انتہائی بدنصیب انسان ہے۔ یہ احکام والدین صرف امت محمدیﷺ پر ہی نہیں بلکہ پچھلی امت میں بھی والدین کی خدمت کرنے کی تاکید آئی ہے جیسا کہ توریت میں ہے۔
حضرت موسیٰ اور حضرت عیسٰی علیہم السلام کی شریعت میں والدین کے بارے میں احکام
یہ وہ توریت ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ والدین کے حقوق سے متعلق یہاں تک حکم دیا گیا کہ جو والدین کو برا بھلا کہے، گالی گلوچ کرے یا زبان سے ایسا کلمہ کہے جو لعنت پر محمول کیا جاسکے۔
اس کی سزا قتل ہے، والدین کی توہین کی آخرت میں جو سزا ہوتی تھی، وہ سزا تو ہونی ہی تھی اور اس دنیا میں بھی اس جرم کا مرتکب سزا موت کا حق دار ہے۔
یہی حکم حضرت عیسٰی علیہ السلام پر نازل کیا گیا جو کتاب توریت میں بھی موجود تھا، گویا یہ معلوم ہوتا ہے کہ شریعت عیسوی کے مطابق والدین کی اہانت اور بے ادبی کی سزا موت تھی۔ اس کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بنی اسرائیل کے مذہب میں والدین کی بے ادبی کتنا گھنائونا جرم تھا اوراس کے لئے بڑی سے بڑی سزا موت مقرر کی گئی تھی۔
امت محمدی پر کتنا بڑا احسان ہے۔ اگر کوئی نافرمان اولاد اپنے والدین کے ساتھ برا سلوک کرے، انہیں دنیا میں سزائے موت نہیں لیکن وہ آخرت میں عذاب کا مستحق ہے۔اور اگر کوئی شخص اپنے والدین کی اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہے۔ انہیں کس قدر انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے۔
حضرت اویس قرنی رضی اﷲ عنہکی اطاعت افروز حکایت
حضرت سیدنا اویس قرنی رضی اﷲ عنہ جو حضور نبی اکرمﷺ کی ظاہری حیات طیبہ میں اپنی زندگی کے بیس سال گزارنے کے بعد بھی شرف صحابیت سے بہرہ ور نہ ہوسکے۔ وہ عاشق صادق اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ حضور نبی اکرمﷺ کے چہرہ مبارک کی ایک جھلک انہیں صحابیت کے مرتبے پر فائز کرسکتی ہے جس سے ان کا مقام تابعین سے اونچا ہوجاتا مگر انہوں نے اپنی ضعیف ماں کی خدمت کی خاطر شرف صحابیت سے کو قربان کرنا گوارا کرلیا اور جیتے جی ماں کے قدموں سے دوری اختیار نہ کی۔ ماں کی خدمت گزاری میں بدستور رہنے کا حکم بھی آقائے مولاﷺ کا تھا۔ اس کی تعمیل میں وہ زندگی بھر ماں کی خدمت میں محو رہے اور تادم آخر ماں کی خدمت گزاری کو مرتبہ صحابیت کے حصول پر ترجیح دیتے رہے۔
ایک مرتبہ یہ عاشق زار اپنی ماں کی اجازت سے شوق دید سے سرشار ہوکر اپنے آقاﷺ کی زیارت کے لئے مدینہ طیبہ حاضر ہوئے لیکن ماں کا حکم تھا کہ اگر حضورﷺ گھر میں تشریف فرما ہوں تو مل لینا اور اگر نہ ہوں تو انتظار نہ کرنا واپس پلٹ آنا، اتفاق کی بات تھی کہ جب اویس قرنی رضی اﷲ عنہ در دولت پر پہنچے تو آپﷺ گھر سے دور کہیں تشریف لے جاچکے تھے۔ چنانچہ وہ محبوب کے نام یہ پیغام چھوڑ کر واپس لوٹ آئے کہ آپ کا اویس زیارت کے لئے حاضر ہوا تھا مگر چونکہ ماں کی طرف سے انتظار کرنے کی اجازت نہ تھی، اس لئے بغیر ملاقات کے لوٹ کر جارہا ہے۔
حضرت اویس قرنی رضی اﷲ عنہ نے جس طرح ماں کی خدمت کا حق ادا کیا وہ تاریخ انسانیت کا وہ نادر الوقوع واقعہ ہے جس کی نظیر ملنا محال ہے۔ اگر کوئی ہم جیسا کور ذوق اور کوتاہ اندیش ہوتا تو مدینہ طیبہ میں پہنچ کر کچھ عرصہ اور قیام کرلیتا کہ چلو اتنی طویل مسافت طے کرکے پہنچے ہیں۔ دیدار جاناں سے شاد کام ہوکر ہی لوٹتے ہیں، ذرا سوچیئے کہ عاشق اویس قرنی جیسا ہو اور چند لمحوں کے توقف کے بعد دیدار یار بھی میسر آسکتا ہو مگر چونکہ ماں کا حکم تھا کہ اگر نہ ملیں تو بغیر انتظار کے پلٹ آنا، اس لئے حکم کے آگے بغیر چوں چرا سرتسلیم خم کردیا اور واپس چلے آئے۔
اطاعت والدین کے سبب اویس قرنی رضی اﷲ عنہ پر انعام
ماں کی خدمت کے عوض حضرت اویس قرنی رضی اﷲ عنہ کو جو مقام و مرتبہ عطا ہوا۔ اس کا اندازہ بھی ہم جیسے نہیں لگا سکتے۔ اگرچہ انہیں حضور اکرمﷺ کا ظاہری دیدار اور صحبت میسر نہ آئی تھی مگر پھر بھی ان کے مقام و مرتبہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضور اکرمﷺ اپنی صحبت میں رہنے والوں سے اویس قرنی رضی اﷲ عنہ کے فضائل اور درجات بیان کیا کرتے تھے اور حضور اکرمﷺ اپنے صحابہ کو بتاتے کہ میرے اویس کی علامت یہ ہے کہ اس کے فلاں ہاتھ پر داغ ہے اور اس کا مقام و مرتبہ یہ ہے کہ اس کی دعا سے میرے لاکھوں اُمتیوں کی شفاعت ہوگی۔
آخر میں اس گفتگو کا ماحصل اور لب لباب بیان کرتے ہیں کہ ماں کی خدمت سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں اور یہ سارے درجات اور فضیلتیں اسی زینے سے حاصل ہوتی ہیں۔ ماں کی خدمت کا کوئی اور بدل نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے حدیث پاک میں ہے کہ:
الجنۃ تحت اقدام الامہات
جنت مائوں کے قدموں کے نیچے ہے
اس لئے ہمیں چاہئے کہ مرتے دم تک والدین کی خدمت میں ہمہ وقت مستعد رہیں۔
آمین بجاہ نبی الامینﷺ

Wednesday, July 22, 2015

حضرت علیؓ کی شاعری


اکثر اسلامی تاریخی روایات کے مطابق حضرت علیؓ کو فن شاعری سے بھی رغبت تھی۔ 1928ء میں آپ ؓ کا دیوان ہندوستان میں، عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ پہلی بار شائع ہوا، مترجم مولی سعید احمد اعظم گڑھی تھے۔ "یہ اس عظیم شخصیت کا مجموعہ کلام ہے جسے زبان نبویؐ نے علم کا دروازہ کہا کہا۔ لہٰذا ایسی شخصیت کے کلام کے متعلق کسی رائے کا اظہار سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔" ان الفاظ میں رائے دینے سے اپنی بے کسی کا اظہار ہی وہ عقیدت مندانہ رائے ہے جو قابل تقلید بھی ہے اور ناقابل تردید بھی۔ ذیل میں ہم کلام علیؓ سے منتخب اشعار کا اردو ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

قاضی الحاجات کی درگاہ میں دعا و مناجات
حاضر ہوں حاضر ہوں، توہی میرا مالک ہے ٭ اپنے ناچیز بندہ پر رحم فرما، تو ہی اس کی جائے پناہ ہے اے صاحب بزرگی و بلندی تجھی پر میرا بھروسا ہے٭ اس کی خوش خبری، جس کا تو مالک ہو۔
اس شخص کو خوشخبری جو شرمندہ اور بیدار ہو٭ اپنی مصیبت کی خدا کی درگاہ میں شکایت پیش کرے اس کو کوئی شکایت، کوئی بیماری٭ اپنے مالک کی محبت سے زیاد نہیں۔
جب رات کی تاریکی میں تنہا گڑگڑاتا ہے٭ تو خدا پاک اسکی دعا قبول کرتا، اور اسے لبیک کہتا ہے اور کہتا ہے کہ اے میرے بندے تو نے مجھ سے سوال کیا اور تو میری پناہ میں ہے ٭ اور جو کچھ تونے کہا میں نے سنا۔
تیری آواز کے میرے فرشتے مشتاق ہیں٭ پس اس وقت میں نے تیرے گناہ کو بخش دیا۔
بہشت میں اسکی تمام آرزوئیں پوری ہوں گی٭ اس کے لئے خوشخبری اور خوشخبری پر خوشخبری ہے مجھ سے بلاشرم اور خوف کے مانگ٭ اور مجھ سے ڈر! کہ میں تیرا معبود ہوں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مرثیہ
کیا پیغمبر خدا صلعم کی تجہیز و تکفین اور کپڑوں میں دفن ہوجانے کے بعد ٭ کسی مرنے والے پر میں غم کرو گا۔
ہم اپنے پیغمبر خدا کی وجہ سے مصیبت میں مبتلا کئے گئے ۔ پس جب تک زندہ رہیں گے اس کے برابر کوئی موت نہیں دیکھ سکتے۔
اور وہ ہمارے یعنی اپنے گھر والوں کے لئے بمنزلہ قلعہ کے تھے ٭ اور ان کے لئے جائے پناہ اور دشمنوں سے جائے حفاظت تھے۔
اور ہم ان کے سامنے رہ کر نور اور ہدایت دیکھتے تھے٭ آپ صبح و شام ہم میں آتے جاتے تھے۔ آپ کی وفات کے بعد ہم کو تاریکی نے گھیر لیا٭ دن ہی میں، جو ظلمت شب سے بھی زیادہ ہے پس اے وہ شخص جو تمام ان لوگوں سے بہتر ہے جو پہلو اور دل رکھتے ہیں ٭ ان تمام مردوں سے بہتر جنگجو خاک اور مٹی نے اپنے نیچے رکھ لیا۔
گویا کہ لوگوں کے کام آپ کے بعد٭ ایسی کشتی میں رکھے گئے ہیں جو دریا کی بلند موجوں میں ہے۔ پس فضائے ارض باوجود کشادہ ہونے کے ان کے لئے تنگ ہوگئی ہے٭ رسول خدا کو گم کرنے کرنے کی وجہ سے جب کہا گیا کہ آپ گذر گئے
تو مسلمانوں پر ایسی مصیبت نازل ہوئی٭ جو مثل پتھر کے شگاف کے ہے اور پتھر کے شگاف کا جڑنا ممکن نہیں
اس مصیبت کے لوگ ہرگز برداشت نہیں کرسکتے٭ اور جو ہڈی ان کی کمزور ہوگئی ہے ہرگز جوڑی نہیں جاسکتی
اور نماز کے ہر وقت بلال ان کو اٹھاتے ہیں٭ اور جب پکارتے ہیں ان کا نام لے کر پکارتے ہیں۔
لوگ مردہ کی وراثت چاہتے ہیں٭ اور ہم میں نبوت اور ہدایت کی وراثت ہے۔

نورچشم امام حسین ؓ کونصیحت
اے حسینؓ، میں تم کو نصیحت کرتا ہوں اور ادب سکھاتا ہوں٭ پس سمجھو، اس لئے کہ عقلمند وہی شخص ہے جو ادب پذیر ہو۔
اور مہربان باپ کی نصیحت یاد رکھو٭ جو تمہاری آداب سے پرورش کرتا ہے تاکہ تم ہلاک نہ ہوجاؤ اے بچے! روزی کی کفالت کرلی گئی ہے٭ پس جو کچھ طلب کرو، حسن و خوبی سے طلب کرو اپنی کمائی صرف مال نہ قرار دو٭ بلکہ اپنی کمائی خدا کا خوف ٹھہراؤ
خدا ہر مخلوق کی روزی کا ضامن ہے٭ اور مال عاریت ہے اور آنے جانے والی چیز ہے
روزی بلحاظ سبب جس وقت پیدا کی جاتی ہے٭پلکارے سے پہلے انسان کے پاس پہنچ جاتی ہے
اور سیلاب سے اپنے ٹھہرنے کی جگہ پر پہنچنے٭ اور چڑیوں کے گھونسلوں کی طرف اترنے سے، جس وقت اترتی ہیں، پہلے پہنچ جاتی ہیں۔
اے بیٹے! بیشک قرآن میں نصیحتیں ہیں٭ پس کون اس کی نصیحتوں کو اختیار کرے گا
پوری کوشش سے اللہ کی کتاب کو پڑھو اور تلاوت کرو٭ ان لوگوں میں ہوکر جو اس کو اپنے ذمہ لئے ہوئے ہیں اور کوشش کرتے ہیں
غور و فکر سے، فروتنی کے ساتھ اور حصول تقرب کے خیال سے ٭ اس لئے کہ مقرب وہی شخص ہے جو تقرب حاصل کرتا ہے۔
اخلاص کے ساتھ اپنے اس معبود کی عبادت کرو جو بزرگی والا ہے ٭ جو مثلیں بیان کی جائیں ان کو کان لگا کر سنو!
جب تم اس ڈراؤنی نشانی کے پاس سے گزرو٭ جو عذاب کو ظاہر کرتی ہو تو ٹھہر جاؤ اور آنسو جاری ہوں اے وہ ذات جو اپنے عدل سے جس کو چاہتی ہے عذاب دیتی ہے٭ مجھ کو ان لوگوں میں نہ کر جن کو عذاب دے گا۔
میں اپنی لغزش اور قصور کا اعتراب کرتا ہوں٭ بھاگ کر، اور تیرے ہی پاس بھاگنے کی جگہ ہے جب تم ایسی نشانی سے گزرو جس کے بیان میں ٭ وسیلہ جو بلند تر درجہ جنت ہے اور خوش کن نعمت کا ذکر کرو۔
اپنے معبود سے اخلاص اور توجہ کے ساتھ ٭ جنت کی دعا اس کی طرح مانگو جو تقرب چاہتا ہے
کوشش کرتے رہو شاید تم کو اس زمین پر نزول کا موقع مل جائے ٭ اور ان مقامات کی مسرت حاصل ہو جو ویران نہ ہوں گے
اور ایسی زندگی پا جاؤ جس کے وقت کے لئے انقطاع نہیں ہے٭ اورہمیشہ باقی رہنے والی کرامت کا ملک پاجاؤ
جب نیک کام کا قصد کرو تو اپنی خواہش نفسانی پر سبقت لے جاؤ٭ وسوسوں کے خوف سے، اس لئے کہ وہ آنے جانے والے ہیں
جب برائی کا خیال آئے تو اس سے اپنی آنکھ بند کرلو٭ اور اس کام سے بچو جس سے بچنا چاہیے
اپنے دوست کے لئے منکسر مزا ہوجاؤ اور اس کے لئے٭ اس باپ کے مثل ہوجاؤ جو اپنی اولاد پر مہربان ہے
مہمان کی اس وقت تک تعظیم کرو جب تک اس کا ساتھ رہے٭ یہاں تک کہ وہ تم کو اپنا نسبی وارث خیال کرنے لگے
اس شخص کو اپنا دوست بناؤ جس سے اگر تم بھائی چارہ کرو٭ تو وہ اس مواخاۃ کی حفاظت کرے اور تمہارے لئے لڑائی کرے
اور ان سے چاہ کرو، جس طرح بیمار شفا چاہتا ہے٭ جھوٹے کو چھوڑ دو اس لئے کہ وہ اس قابل نہیں ہے کہ اس کی صحبت اختیار کی جائے
ہر موقع پر اپنے دوست کی حفاظت کرو٭ اور اس شخص کی صحبت اختیار کرو جو جھوٹا نہ ہو
جھوٹے سے دشمنی کرو اور اس کے قریب و پڑوس سے بچو ٭ اس لئے کہ کاذب اپنے ہم نشین کو آلودہ کر دیتا ہے
زبانی تم سے امیدوں سے بڑھ کر وعدے کرتا ہے ٭ مگر لومڑی کی طرح تم سے کتراتا ہے
اور چاپلوس لوگوں سے بچو اس لئے کہ وہ ٭ مصائب کے وقت تم پر ایندھن لگائیں گے
وہ انسان کے اردگرد لگے رہتے ہیں، جب تک ان سے امید ہوتی ہے٭ جب زمانہ اس کے ناموافق ہوا ، لاپروائی کی اور چل دیئے
میں نے تم کو نصیحت کی، اگر تم میری نصیحت کو قبول کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے٭ اور نصیحت تمام بیع اور ہبہ کی چیزوں سے ارزداں ہے۔

سیدنا امام حسن علیہ السلام کو نصیحت
مصیبت کے وقت غم کی چادر اوڑھ لو٭ تو اس صبر جمیل کی وجہ سے انجام خیر تک پہنچو گے
اور ہر موقع پر حلم اختیار کرو٭ اس لئے کہ حلم ہی بہترین دوست اور ساتھی ہے۔
دوست کے عہد و پیمان کی حفاظت اور رعایت کرو٭ توتم کمال نگہداشت کی وجہ سے صاف مشرب کا مزا چکھو گے۔
ہر نعمت کے موقع پر، خدا کے شکر گذار رہو٭ تو جزا میں ان پر اور زیادہ بخشش عنایت کرے گا۔
انسان کو وہی رتبہ حاصل ہوگا جس کے لئے اپنے آپ کو پیش کرے گا٭ تو تم اپنے متعلق اعلیٰ مرتبہ کے طالب ہو۔
اور حلال طریقہ پر روزی طلب کرو٭ تو ہر طرف سے روزی چند در چند ہوجائے گی۔
اپنی آبرو کی حفاظت کرو اس کو مبتذل نہ کرو٭ اور رذیلوں سے بچی ہوئی چیز کی طلب مت کرو، خواہ تمہیں کتنی ہی مرغوب کیوں نہ ہو۔
اور دوست کے حق کو واجبی قرار دو جب وہ تمہارے پاس آئے ٭ مخلصانہ احسان کے ساتھ جو تم پر واجب ہے۔
اور والدین کے حق کی محافظت کرو٭ اور پرہیزگار پڑوسی اور خویش و اقارب کی مدد کرو۔

بدر میں اپنی شجاعت اور جلیل القدر صحابہ کی تعریف
ہم نے گمراہ لوگوں سے پیغمبر خدا کو اپنی شرافت کی وجہ سے بچایا ٭ اور لوگوں نے سیدھا راستہ دیکھا تھا، نہ ہدایت۔
اور جب ہدایت لے کر آپ آئے تو ہم سب کے سب ٭ خدائے مہربان کی فرمانبردای، حق اور پرہیزگاری کے پابند تھے۔
جب اور لوگوں نے روگردانی کی تھی تو اس وقت ہم نے پیغمبرؐ خدا کی مددکی تھی٭ اور تمام عقلمند مسلمان آپؐ کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔

اصل خاکی کی مذمت اور علم دین کی تعریف
لوگ بلحاظ صورت یکساں٭ ان کے باپ آدمؑ اور ماں حوا ؑ ہیں۔
لوگوں کی مائیں صرف نطفہ کے ظروف٭ اور اس کی جائے ودیعت ہیں حسب کا اعتبار باپ سے ہوتا ہے اگر لوگوں کو قابل فخر عزت نسب سے حاصل ہے٭ تو یہ عزت بے حقیقت ہے، اس لئے کہ ان کی اصل، مٹی اور پانی ہے۔
اگر تم نسب والوں سے فخر کو بیان کرتے ٭ تو اس سے بڑا فخر ہم کو حاصل ہے کیونکہ ہمارا نسب سخاوت اور بلند رتبگی ہے۔
صرف اہل علم کو بزرگی حاصل ہے٭ اس لئے کہ وہی ہدایت پر ہیں اور طالب ہدایت کے رہنما ہیں۔
انسان کی قدر وہ کمال ہے جس کو وہ خوبی سے انجام دے ٭ اور جاہل علم کے دشمن ہیں علم کی خدمت کر اور اس کے عوض مال مت طلب کر٭ اس لئے کہ تمام لوگ مردہ اور صرف اہل علم زندہ ہیں۔

جاھلوں اور غافلوں کی موانست سے نفرت
جاہلوں کی صحبت مت اختیار کر ان سے بچ ٭ کیونکہ بہت سے جاہلوں نے اس حکیم کو تباہ کردیا جس نے ان سے دوستی کی۔
دو آدمی جب ساتھ ساتھ چلتے ہیں تو ایک دوسرے پر قیاس کیا جاتا ہے ٭ چیزیں ایک دوسرے کے لئے قیاس اور مشابہ ہوتی ہیں۔

بے وفا زمانہ کی شکایت اور بے اعتبار دوستوں کا ذکر
دوستی اور بھائی چارہ میں انقلاب ہوگیا٭ سچائی نادر ہوگئی اور امید منقطع
زمانہ نے مجھ کو ایسے دوست کے حوالے کر دیا٭ جو بہت بے وفا ہے اور اس میں رعایت کا مادہ نہیں۔
امید ہے کہ عنقریب وہ ذات جس نے اس کو مجھ سے مستغنی کیا ہے مجھ کو بھی مستغنی کردے گی٭
کیونکہ ناداری ہمیشہ رہتی ہے نہ تو انگری۔
اور نعمت ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں ہے٭ اسی طرح مصیبت کو بھی دوام حاصل نہیں ہے۔
ہر وہ محبت جو خدا کے لئے ہوتی ہے پاک ہوتی ہے ٭ دوستی میں بدکرداری سے صفائی نہیں پیدا ہوتی۔
جس وقت تم اپنے عزیز کی محبت سے ناآشنا بن جاتے ہو٭ تو میں محبت کرتا ہوں اس لئے کہ میرے دل میں شرافت اور حیاء ہے۔
ہر زخم کے لئے دوا ہے ٭ صرف بداخلاقی کی دوا نہیں
بہت سے بھائی ہیں جن کے ساتھ میں نے وفاداری کی٭ لیکن ان کی وفاداری پائی نہیں ہوئی۔
جب تک وہ لوگ مجھ کو دیکھتے ہیں محبت کو باقی رکھتےہیں ٭ اور محبت اسی وقت تک باقی رہتی ہے جب تک ملاقات رہتی ہے۔
جب تک میں ان سے مستغنی رہتا ہوں تو دوست ہوتے ہیں ٭ جب مجھ پر مصیبت نازل ہوتی ہے تو دشمن ہوجاتے ہیں۔
اگر میں نظر سے ہٹ جاتا ہوں تو دشمنی کرنے لگتے ہیں٭ اور مجھے کافی طور پر تکلیف دیتے ہیں جب کسی گھر کا سردار اٹھ جاتا ہے ٭ تو اس کے گھر والوں پر لوگ زیادتی کرتے ہیں۔

وہ بے وفا عورتیں جن میں سچائی ہے نہ صفائی
انکا ذکر چھوڑ کیونکہ ان میں کچھ بھی وفا نہیں ہے ٭ باد صبا اور ان کے وعدے دونوں کی ایک سی حالت ہے۔
تمہارے دل کو توڑتی ہیں پھر اس کو جوڑتی نہیں ٭ اور ان کے قلوب وفاداری سے خالی ہیں۔

اس دنیا کو طلاق کا حکم جونالائق دلھن ہے۔
دنیا کو تین دفعہ طلاق دے دو اور اس کے علاوہ دوسری عورت تلاش کرو ٭ کیونکہ وہ ایسی بری عورت ہے کہ اس کو پرواہ نہیں کہ کون اس کے پاس آتا ہے یعنی ہرجائی ہے۔
جہاں مطلب بر آری ہوگئی، وہیں بیٹھ پھیر لی۔

ہفتہ کے دنوں کے پسندیدہ معمولات
یقینا شکار کے لئے ہفتہ کا دن اچھا ہے ٭ اگر تم چاہو اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
یکشنبہ کے روز مکان بنانا بہتر ہے اس لئے کہ ٭ اسی دن خدا پاک نے آسمان بنانا شروع کیا تھا اور دوشنبہ کے دن اگر تم سفر کرو ٭ تو امید ہے کہ کامیابی اور دولت حاصل ہوگی۔
جو پچھنا لگانا چاہے تو منگل ہے٭ اس لئے کہ اس کی ساعتوں میں خون جاری ہوجانے کا اثر ہے اگر کوئی شخص دوا پیئے ٭ تو اسکے لئے بہترین دن چہار شنبہ کا ہے۔
جمعرات ضرورت کے پور کرنے کا دن ہے ٭ کینوکہ اس میں اللہ دعاؤں کی اجازت دیتا ہے جمعہ کے دن شادی، بیاہ ٭ اور مردوں کو عورتوں سے لطف اُٹھانا چاہیے۔

رنج کے بعد خوشی اور دقت کے بعد آسانی
جب دلوں کو مایوسی گھیر لیتی ہے٭ اور کشادہ سینہ اس کی وجہ سے تنگ ہوجاتا ہے۔
اور مصیبتیں وطن بنا کی مطمئن ہوجاتی ہیں ٭ اور ان کی جگہوں میں تکلیفیں لنگر انداز ہوجاتی ہیں اور اس تکلیف کے دور ہونے کی صورت نظر آتی ہے ٭ اور اپی تدبیر سے عقلمند کچھ نہ کر سکا۔
اس وقت اس نا امیدی کے بعد تمہارے پاس ایک فریاد رس آتا ہے ٭ جس کے واسطہ س مہربان دعا قبول کرینوالا خدا احسان کرتا ہے۔
تمام حوادث زمانہ جب انتہا کو پہنچ جاتے ہیں ٭ تو اس کے بعد جلد کشادگی آتی ہے۔

علم و ادب کی تعریف، عقل و حسب کی ستائش
ہمارے زمانہ میں مصیبت تعجب انگیز نہی ہے ٭ بلکہ اس میں سلامتی ہی بہت زیادہ حیرت انگیز ہے زینت دینے والے کپڑوں کا جمال کچھ نہیں ہے٭ حقیقت میں جمال، علم و ادب کا جمال ہے۔
یتیم وہ نہیں ہے جس کا باپ مر گیا ٭ حقیقتا یتیم وہ ہے جو عقل و شرافت سے محروم ہے۔

منافقوں کی شکایت
جس طرح گذشتہ کل گیا وفاداری بھی گئی ٭ لوگ دغاباز اور مکار ہوگئے
آپس میں دوستی اور خلوص کی اشاعت کرتے ہیں ٭ اور ان کے دلوں میں بچھو چھپے ہوتے ہیں۔

حقیقت میں شیطان بصورت انسان ہیں
بہت سے لوگ گزرے ہوئے زمانہ کی شکایت کرتے ہیں ٭ حالانکہ گزشتہ زمانہ میں اب کوئی تغیر نہیں ہوسکتا۔
میں دیکھتا ہوں کہ رات اسی طرح گزر رہی ہے جیسا میں نے پہلے دیکھا تھا٭ اور دن بھی اسی طرح آتا جاتا ہے۔
اور آسمان نے ہم سے بارش نہیں رد کی٭ اور نہ آفتاب و مہتاب میں گرہن لگا۔
پس اس سے کہدے جو گردش زمانہ کی مذمت کرتا ہے٭ کہ تونے زمانہ پر ظلم کیا پس انسان کی مذمت کر۔

عار کے انواع و اقسام اور دشمنان و حشت شعار پر تعریض
آگ عار برداشت کرنے سے بہتر ہے ٭ اور عار اس کو آگ میں لے جاتی ہے۔
اس شخص کے لئے عار ہے جو رات گزارے اور اس کا پڑوسی ٭ بھوکا ہو اور اس کے پرانے کپڑے شکستہ ہوں۔
کمزور کی دل شکنی اور اس پر ظلم ٭ اور نیکوں کو بدوں کیساتھ کھڑے کرنا بھی ننگ ہے۔
ننگ یہ بھی ہے کہ کوئی تم کو ایسا نفع پہنچائے ٭ جو تمہارے نزیک کم ہو۔
اس شخص میں بھی ننگ ہے جو دشمنوں سے اعراض کرے ٭ اور قرابت مندوں کے لئے مشکل شکاری شیر کے ہو۔
یہ بھی ننگ ہے کہ تم لوگوںمیں پیش پیش ہو ٭ اور لڑائی میں بھاگنے والوں میں ہو۔
طلب حلال کے لئے کوشش کر اور اس کو ٭ اسراف اور فضول خرچی سے مت کھا
صرف اپنے گھر والوں پر خرچ کر، یامہمان پر یا اس شخص پر٭ جو تنگی کی تکلیف کی شکایت کرے۔

اس بات پر فخر کہ آپ کی خوشبو تلوار و خنجر ہے
تلوار و خنجر ہماری خوشبو ہیں٭ نرگس اور گل مورد پر تف ہے۔
ہماری شراب ہمارے دشمنوں کا خون اور ٭ ہمار جام دشمنوں کے سر کی کھوپڑی ہے۔

احسان کے مراسم اور لوازم کی ھدایت
احسان طبیعت کی شرافت کا نتیجہ ہے ٭ اور احسان جتانا نیکی برباد کرنے کا باعث ہے۔
اور بھلائی محفوظ پہاڑ کی چوٹ سے ٭ بھی زیادہ حفاظت کرتی ہے۔
برائی کا بہاؤ پانی کے تیز٭ بہاؤ سے بھی زیادہ تیز ہوتا ہے۔
دوست کے تعلق کو چھوڑ دینا ٭ بے تعلقی کا باعث ہوتا ہے۔
لوگوں کی عیب جوئی سے اپنے آپ کو آلودہ نہ کرو ٭ اس لئے کہ دوسروں کی عیب جوئی تم کو بھی آلودہ کردے گی۔
بہ تکلف کسی خلق کو اختیار کرنا اس بات سے ٭ رک نہیں سکتا کہ اپنی اصلی طبیعت کی طرف لوٹ آ مخلوق یعنی بندگان خدا فطرۃ ٭ بری اور بھلی خصلت والے پیدا کئے گئے ہیں۔

وہ نصیحتیں جو بہت سے فوائد اور مصالح پر مشتمل ہیں۔
اپنے لئے زندگی ہی میں زادراہ پہلے بھیج دے ٭ اس لئے کہ کل تو دنیا کو چھوڑ دے گا اور تجھ کو الوداع کہا جائے گا۔
اور قریبی سفر (موت) کااہتما م کر اس لئے ٭ کہ وہ دور والے سفر قیامت سے بہت دور ہے۔
اپنا زادراہ، خوف و تقویٰ بنا ٭ اور یہ کہ گویا تیری موت شام سے بھی جلدی آنیوالی ہے۔
اور بقدر ضرورت روزی پر قناعت کر اس لئے کہ قناعت ہی بے نیازی ہے ٭ اور فقر اس شخص کے لئے لازم ہے جو قانع نہیں ہے۔
اور کمینوں کی صحبت سے پرہیز کر اس لئے کہ وہ ٭ تجھ سے خالص محبت نہ کریں گے بلکہ تضع سے کام لیں گے۔
جب تک تو ان کو خوش رکھے گا وہ تجھ سے محبت کریں گے ٭ جب تو عطیہ روک دے گا تو ان کا زہر تیرے لئے تر کیا ہوا ہے۔
کسی بھید کو افشا جہاں تک ممکن ہو ٭ اس شخص سے نہ کر جو مخفی بھیدوں کو تجھ سے کہتا ہو۔
اس لئے کہ جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ وہ دوسرے کے بھید کیساتھ کرتا ہے ٭ ایسا ہی یقینا تمہارے بھید کے ساتھ کرے گا۔۔
جب تم بھیدوں کے امین بنائے جاؤ تو ان کو پوشیدہ رکھو ٭ اور جب واقف ہو جاؤ تو اپنے بھائی کے عیب کو چھپاؤ۔
کسی محفل میں قبل سوال کے کوئی بات ٭ ظاہر نہ کرو، اس لئے کہ یہ بری بات ہے۔
اس لئے کہ سکوت جوان کیساتھ حسن ظن قائم کرتا ہے ٭ اور اگرچہ و بیوقوف، نادان اور احمق ہو اور مذاق ترک کر اس لئے کہ مذاق کرنے والے کے بہت سے الفاظ ٭ ناقابل دفعیہ مصائب کے باعث ہوتے ہیں۔
اور اپنے پڑوسی کے تحفظ کو ضایع نہ کر ٭ اس لئے کہ ضائع کرنیوالا اعلیٰ شرف کو نہیں پہنچ سکتا۔
اور مہمان کی تعظیم کر تو پائے گا کہ وہ ٭ ان لوگوں کے متعلق خبر دے گا جو سخاوت کرتے ہیں اور جو بخل اور منع کرتے ہیں۔
جب تم سے برائی کرنیوالا لغزش کی معافی چاہے٭ تو معاف کردے اس لئے کہ خدا کا ثواب اس سے زیادہ ہے۔
مصائب زمانہ سے نہ گھبرا اس لئے کہ ٭ حوادث سے گھبرانے والے نادان ہیں۔
اور اپنے پدر بزرگوار کی ہر بات میں صیحت قبول کر ٭ اس لئے کہ اپنے پدر بزرگوار کا مطیع کبھی ذلیل نہ ہوگا۔

دنیا عالم مثال میں
جس کو دیائے دنی نے دھوکا دیا وہ ٹوٹے میں رہا ٭ اگر اس نے بہتوں کو دھوکا دیا تو اس میں کچھ نفع نہیں ہے۔
ہمارے پاس شبینہ ایک معزز شخص کے لباس میں ٭ اپنی زینت کیساتھ اپنی ان اداؤں میں آئی
تو میں نے کہا اس سے کہا کہ کسی دوسرے کو دھوکا دو ٭ ا سلئے کہ میں دنیا میں خوب واقف ہوں اور اس سے جاہل نہیں۔
مجھ کو دنیا سے کیا واسطہ اس لئے کہ محمد ﷺ ٭ فقر پر وقف ہیں اس سنگستان کے درمیان۔
فرض کیا کہ وہ ہمارے پاس خزانے اور اس کے موتی ٭ قارون کی دولت اور تمام قبیلوں کی حکومت لے کر آئے۔
کیا سب کا انجام فنا نہیں ہے ٭ اور اس کے جمع کرنے والوں سے اس کے نفع کا مطالبہ ہوگا؟
پس کسی دوسرے کو دھوکا دے، اس لئے کہ مجھ کو کچھ رغبت نہیں ہے۔ ہ تیری عزت کی، نہ ملک کی نہ عطیہ کی۔
میرا نفس،جو کچھ بھی اسکو روزی میسر ہے اس پر قانع ہے ٭ پس اسے دنیا تو جان اور وہ جانیں جو اپنے ساتھ برائی کرتے ہیں۔
اس لئے کہ میں خدا سے ، اس دن سے ڈرتا ہوں جس دن، اس سے ملنا ہے ٭ اور اس عتاب سے خوف کرتا ہوں جو دائمی اور غیر منقطع ہے۔

اہل حقائق و معرفتہ پر نجم کے تاثیر کی نفی۔
اس نے مجھے ڈرایا ستاروں سے ٭ اور اس شر سے جو پیدا ہونے والا ہے۔
میں صرف اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں، باقی رہے ستارے ٭ تو مجھے ان کے شر سے اطمینان ہے۔

خالق جز و کل پر بھروسا کرنے کی ھدایت
خدا کی کس قدر پوشیدہ مہربانیاں ہیں ٭ ان کی پوشیدگی ذہین کی فہم سے بھی باریک ہے۔
اور کس قدر آسانیاں سختی کے بعد آئیں ٭ اور غمگین دل کی تکلیف کو دور کیا۔
بہت کام ایسے ہیں جن کی وجہ سے صبح تم کو تکلیف ٭ اور شام کوتمہیں مسرت حاصل ہوتی ہے۔
جب کسی دن حالات تم کو تنگ کریں ٭ تو خدائے یکتا، واحد اور بلند پر اعتماد کرو
نبی ؐ کو وسیلہ ٹھہراؤ، اس لئے کہ ہر کام ٭ آسان ہوجاتا ہے جب پیغمبر کو وسیلہ ٹھہرایا جاتا ہے جب کوئی مصیبت پڑے تو نہ گھبراؤ ٭ اسلئے کہ خدا کی بہت سی پوشیدہ عنائیتں ہیں۔
٭٭٭

اقتباس سہ ماہی نگارشات رسالہ ۲۰۰۱
دیوان علی رضہ عربی
 

Thursday, July 9, 2015

سومناتھ مندر کی حقیقت

تاریخ کی اس حقیقت کو اب کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے کہ انڈین کانگریس کے لیڈر آزادی کی جدوجہد میں برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کی تشکیل کے خلاف تھے اور ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کی حیثیت کو قائم رکھنا چاہتے تھے، انکے نزدیک بھارت کی تقسیم ’’گائو ماتا‘‘کی تقسیم تھی، چنانچہ انگریزی حکومت سے آزادی حاصل کرنے کیلئے آل انڈیا کانگریس کے لیڈروں نے متحدہ ہندوستانی قومیت کے تصور کو فروغ دیا جس کی نفی علامہ اقبال نے فکری سطح پر اور قائداعظم محمد علی جناح نے سیاسی سطح پر کی اور پھر حالات کو ایسی کروٹ ملی کہ پاکستان دو قومی نظریے کی اساس پر معرض وجود میں آ گیا اور گزشتہ 68 برس سے اسے ثبات وقیام حاصل ہے درآنحالیکہ اندرا گاندھی اپنی وزارت عظمیٰ کے دور میں اس کا ایک بازو توڑنے میں کامیاب ہو چکی ہیں اور اب وزیراعظم نریندر مودی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش بنانے میں مکتی باہنی کے باغیوں کے ساتھ تھے۔
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت میں موجود مسلم اقلیت اور پاکستان کے خلاف نفرت کے بیج بونے اور انہیں قد آور فصل بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور حد یہ ہے کہ اب نریندرمودی بھارت کی تواریخ کو مسخ کرنے اور اپنی مرضی کی تواریخ لکھوانے کے پراجیکٹ پر بھی کام کررہے ہیں، تاہم غنیمت ہے کہ بھارت میں رومیلا تھاپر جیسی تاریخ دان بھی موجود ہیں جو صداقت کو جرأت مندی سے پیش کرنے سے گریز نہیں کرتیں، واقعہ یہ ہے کہ بھارت کے صوبہ گجرات کے ساحل پر واقع سومناتھ کے مندر پر محمود غزنوی کے حملوں، مندر کی لوٹ مار اور اسکی شکست وریخت اور بت شکنی کے واقعات کو اس طرح پیش کیا گیا کہ ہندو عوام کے دلوں میں مسلمانوں کیخلاف شدید نفرت کی آگ بھڑک اٹھی اور بابری مسجد کے شہادت کا واقعہ اس انتہا پسندی اور نریندر مودی کی سازش کا نتیجہ ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کا یہ مقصد ڈھکا چھپا نہیں کہ بھارت کو ایک ایسی ریاست بنانا ہے جس میں صرف ہندو بستے ہوں، غیر ہندوئوں کیلئے ان کا ’’ارشاد‘‘ ہے کہ اپنا مذہب چھوڑ کر ہندو بن جائو یا پھر اس ملک کی بودوباش ترک کردو۔
سومناتھ کے مندر اور محمود غزنوی کے محلوں میں لوٹ مار کے سلسلے میں اتنا جھوٹ بولا گیا کہ اب بھارت کے ہندو اسے تاریخ کا راسخ سچ گردانتے ہیں لیکن رومیلا تھاپر جیسی منصف مزاج تاریخ دان نے ترکی اور ایران کے قدیم مخطوطات کے مطالعے کے بعد اس جھوٹ کی قلعی کھول دی ہے۔ اس بت کو ساتویں صدی عیسوی میں سعودی عرب سے سومناتھ کے مقام پر لایا گیا تھا جو اس وقت چھوٹا سا گائوں تھا لیکن یہ تجارت کا ایک اہم مقام بھی تھا۔ رومیلا تھاپر نے ایک کتبے کے مطالعے کے بعد یہ واقعہ بیان کیا کہ اس علاقے کے برہمنوں نے ایک ایرانی بیوپاری کو سومناتھ کی حدود میں مسجد بنانے کی اجازت دی تھی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سومناتھ کے ہندوئوں اور مسلمانوں میں اختلافات کے برعکس یگانگت تھی، ہندوستان کی قدیم تاریخ میں 1857ء تک سومناتھ پر محمود غزنوی کے حملوں کا کوئی فرقہ وارانہ پہلو اس ملک کے مشترکہ ہندو مسلم سماج میں نہیں ملتا لیکن 1857ء کے بعد انگریزی حکومت کے ایک وائسرائے نے اپنے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ محمود غزنوی نے بڑی بے رحمی سے سومناتھ مندر کو تباہ کر کے وہاں موجود بت توڑ ڈالے اور مندر کے قیمتی دروازے غزنی لے گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان کے اس وائسرائے کے بیان کو سرکارِ برطانیہ نے درست تسلیم کرلیا اور مندر کے مبینہ زریں دروازوں کو غزنی سے واپس لانے کی کارروائی بھی شروع کردی۔ رومیلا تھاپر، نیل وار بھٹا چاریہ، سورپائی گوپال، اور کے ، این پانیکر جیسے آزاد اور منصف خیال تاریخ دانوں نے اس واقعے کو درست تسلیم نہیں کیا بلکہ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے من گھڑت قراردیا ہے لیکن انگریز حکمرانوں نے اس حقیقت کا ادراک کرلیا تھا کہ ہندوستان پر حکومت کرنے کیلئے ہندوئوں اور مسلمانوں میں نفرت اور نفاق ضروری ہے اور محمودی غزنوی کو ہندو دشمن اور بت شکن قرار دینے سے حکمرانی کے مقاصد حاصل کیے جا سکتے تھے، چنانچہ ایلن بروجیسے حکمرانوں نے اس قصے کو خوب ہوا دی اور اسے تاریخ کی نصابی کتابوں میں شامل کر کے دونوں قوموں کے معصوم بچوں کے اذہان کو تعصب سے آلودہ کردیا۔
اوپر لکھا جا چکا ہے کہ آل انڈیا کانگریس کے سیاسی رہنما بھی تشکیل پاکستان کے سخت مخالف تھے۔ چنانچہ پنڈت نہرو نے ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن سے مل کر جو سازش کی اور لیڈی مائونٹ بیٹن سے تعلقات کی جو نوعیت پیدا کی اس کیلئے تاریخ اپنی شہادت دے چکی ہے، اہم بات یہ ہے کہ محمود غزنوی اور سومناتھ کے مندر کے بارے میں ایلن برو نے اضافہ افسانہ گھڑا تھا اور جس کا پروپیگنڈہ قریباً ایک صدی تک ہوتا رہا اس نے ہندوستانی سیاست کو خوب آلودہ کیا اور بھارت کی فرقہ پرست تنگ نظر جماعتوں نے جن میں بی جے پی شامل ہے، خوب فائدہ اٹھایا، اس ضمن میں ایک انتہائی متعصب سیاستدان کے ایم منشی کا ذکر ضروری ہے جس نے سومناتھ کے مندر کی مبینہ شکستگی اور لوٹ کھسوٹ کو افسانے کے انداز میں فروغ دیا اور سیاسی تعصب کو سومناتھ مندر کے اس من گھڑت واقعے کے ساتھ جوڑ دیا لیکن رومیلا تھاپر جیسی تاریخ دانوں نے سچ کو پردہ پوش رہنے نہیں دیا، رومیلا تھاپر کی کتاب ’’سوم ناتھ‘‘ ان کی تحقیق کا قیمتی ثمر ہے۔ بھارت کے ایک سیمینار میں انہیں اس موضوع پر مقالہ پڑھنے کی دعوت دی گئی تو جو حقائق انکے سامنے آئے وہ حیران کن تھے۔ مثلاً ایک یہ بات ہی دیکھئے کہ ترکی اور فارسی کے تاریخی بیانیوں میں تو سومناتھ کا ذکر کثرت سے ملتا ہے لیکن اسی دور میں ہندوستان میں جو کتابیں اور کتبے سنسکرت میں لکھے گئے ان میں سومناتھ کا ذکر تک معدوم ہے۔ اس واقعے کو بعد میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر ایلن برو کے ذہن نے اختراع کیا، آزادی کے بعد اسے کے ایم منشی جیسے متعصب سیاستدانوں نے ہوا دی اور اب بی جے پی کے وزیراعظم نریندر مودی اس نوع کے غلط واقعات پر ہندو مسلم نفرت کو پھیلا کر اپنے مقاصد اور مطالب کی فصل کاٹنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن غنیمت ہے کہ بھارت میں ہی رومیلا تھاپر جیسے تاریخ دان موجود ہیں جو تاریخ کے سچ کو جھوٹ کے ٹھیس سے الگ کررہے ہیں اور اس حقیقت کو فروغ دے رہے ہیں کہ تاریخی واقعات کی نوعیت کتنی مختلف ہے اور غلط پروپیگنڈہ اسے کیا سے کیا بنا دیتا ہے۔

 کالم نگار  |  ڈاکٹر انور سدید